Musadiq Malik criticises Imran Khan for not commenting on Article 370 in his letter to Modi #urduheadline

0


وزیر اعظم کا خط اقوام متحدہ قراردادکےذکرسےبھی خالی تھا

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماء سینیٹر مصدق ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو بھیجے گئے اپنے خط میں بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی ذکر کیا۔

سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنماء مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے دور میں بھی بھارت سے تجارت ہورہی تھی لیکن اس وقت آرٹیکل 370 ختم نہیں ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بحیثیت وزیر تجارت ای سی سی میں سمری بھیجی۔ مصدق ملک نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے اپنے ایک وزیر سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے خارجی، دفاعی اور معاشی معاملات مخلتف ہیں اور بھارت سے تجارت کی سمری کا پبلک میں دفاع کیا جائے تاہم کابینہ میں 3 وزیروں کی شدید مخالفت پر سمری واپس لے لی گئی۔

مصدق ملک نے کہا کہ سینیٹ میں چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سمیت اپوزیشن لیڈر بھی بلوچستان عوامی پارٹی  کے مدد سے آیا ہے لیکن ہم باپ پارٹی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں، اسی لئے ہمارے 27 سینیٹر سینیٹ میں الگ گروپ بنائیں گے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جب ویزاعظم خود کرونا سے متاثر ہونے کے باوجود اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو پھر وہ عوام سے کس بات کا گلہ کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیپال میں ساڑھے 5 فیصد، سری لنکا اور بھارت میں چار چار فیصد لوگوں کی کرونا ویکسینیشن ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں ایک فیصد افراد کو بھی ابھی تک ویکسین نہیں لگائی جاسکی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماء اور چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کی اصلاح کیلئے تنقید کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں تنقید برائے تنقید ہوتی ہے۔

کرونا کے سدباب کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا نے کرونا کی پہلی اور دوسری لہر میں پاکستانی اقدامات اور وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو سراہا ہے۔

 شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر کاز کیلئے سب کو ایک ہونے کی ضروت ہے لیکن ہمارے یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے گھر میں دشمن موجود ہے لہٰذا ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماء کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کبھی بھارت سے تجارت کی بات نہیں کی اور مذکورہ سمری ای سی سی میں صرف غور کیلئے بھیجی تھی، کابینہ میں حماد اظہر نے بالکل نہیں کہا تھا کہ سمری کی منظوری کا وزیراعظم نے کہا۔

شہریار آفریدی نے واضح کیا کہ ایسا وزیراعظم نے کبھی بھی نہیں کہا کہ بھارت سے تجارت ہونی چاہئے بلکہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب تک کشمیر کی 5 اگست سے پہلے والی حیثیت بحال نہیں ہوتی بھارت سے کسی قسم کی تجارت نہیں ہوگی۔

تحریک انصاف کے رہنماء کا کہنا تھا کہ مصدق ملک باپ پارٹی نہیں بلکہ زرداری کی بات کررہے ہیں، موجودہ صورتحال کے پیش نظر نون لیگ کہیں کی نہیں رہی۔



#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.