Government also stole the Daska Elections like the General Elections #urduheadline

3


وزیراعظم نےالیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماء جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ بکے ان سے وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لیا۔

سماء کے پرگرام سوال میں جاوید لطیف نے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن کوکہا گیا کہ استعفیٰ دیں جبکہ ڈسکہ الیکشن کے دوران حکومتی اراکین کی جانب سے پریزائڈنگ آفیسر پر نتائج کا اعلان کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دھمکایا گیا جبکہ چیف الیکشن کمشنر پر مستعفیٰ ہونے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نون نے ڈسکہ الیکشن کے بعد انہیں پیشکش کی تھی کہ ری الیکشن کروالیں ہم تیار ہیں۔ ڈسکہ انتخابات کی طرح سن 2018 کا الیکشن بھی چرایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے ڈسکہ کے عوام کے کہنے پر ری الیکشن کی بات نہیں مانی بلکہ یہ کام عدالت کے حکم پر کیا جارہا ہے۔

پروگرام کے ایک اور مہمان پی ٹی آئی کے رہنماء عثمان ڈار نے کہا کہ عمران خان نے اگر چیف الیکشن کمیشن سے استعفیٰ دینے کا کہا تھا تو اسکا مطلب یہ تھا کہ چیف الیکشن کمیشن حلقے میں صاف انتخابات کرائیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف پاکستان تحریک انصاف کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم برقرار رکھا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ درخواست این اے 75 سے حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہاں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ (ن) لیگ کے شیروں کو مبارکباد جنہوں نے ووٹ چور ٹولے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، (ن) لیگ کے شیروں نے اپنے ووٹ پر پہرہ بھی دیا۔



#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.