آخر ہم اپنی نوجوان نسل کو وراثت میں کیا دے رہے ہیں؟؟؟

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عائشہ نامی ایک لڑکی کی ڈانس ویڈیو نے انٹرنیٹ پر دھوم مچادی۔۔۔۔

آخر ہم اپنی نوجوان نسل کو وراثت میں کیا دے رہے ہیں؟؟؟

پاکستان میں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک لڑکی انٹرنیٹ پر بہت زیادہ مقبول ہو رہی ہے۔اس لڑکی نے نا ہی کوئی نیا آلہ ایجاد کیا ہے نہ ہی کوئی نئی دریافت کی ہے نہ ہی کوئی گولڈ میڈل لئے ہی نہیں کوئی کسی بھی حوالے سے انسانی خدمت کا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔۔بلکہ انہوں نے ایک انڈین گانے پر انڈین طرز پر ڈانس پیش کیا ہے۔۔۔

جس کے بعد اس کو دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر مختلف ٹی وی چینلز نے اور مختلف مارننگ شوز نے بلانا شروع کردیا ہے اور اسے بطور رول ماڈل دکھانا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ہمارے معاشرے میں کتنے ہیں نوجوان ایسے ہیں جو روزانہ انسانوں کے لیے مفید ایجادات کرتے ہیں انسانی خدمات کے نمایاں کارنامے سرانجام دیتے ہیں نئی دریافت کرتے ہیں جو کہ انسانوں کے لیے سہولت کا باعث ہیں لیکن ہم ایسے کسی نوجوان کو اتنی پذیرائی نہیں دیتے۔۔۔آخر ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا پیغام دیا جا رہے ہیں اور ان کے لیے وراثت میں کیا چھوڑ کے جا رہے ہیں یہ ہمارے لئے بطور قوم ایک لمحہ فکریہ ہے۔۔

کیا ہمارے وراثت علم و ادب کے بجائے صرف موسیقی اور ناچ گانا ہی رہ گیا ہے یا ہم علم و ادب کے میدان میں کام کرنے والے نوجوانوں کے لئے بھی کچھ سوچیں گے۔۔۔کیونکہ آج کل دیکھا جا سکتا ہے وہ ٹک ٹاک ہو یوٹیوب ہو یا فیس بک نوجوان نسل میں یہ کلچر بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے کہ بس کسی بھی ناچ گانے پر ویڈیو بناؤ اور اپلوڈ کر دوں اس کے بعد لاکھوں روپے کماؤ جبکہ  پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار پھر رہے ہیں۔۔۔

اب ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر ایک طالب علم پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی دو لاکھ روپیہ ماہانہ نا کما سکے اور ایک لڑکی صرف انڈین طرز پر انڈین گانے پر 24 گھنٹے لگا کے دو دن میں دو کروڑ روپے کما لیتے تو آخر اس معاشرے کی تربیت کے بارے میں پھر ہم کسی اچھائی کی کیا امید رکھ سکتے ہیں۔۔۔