شہباز حکومت کی سفارتکاری آخر کیوں ناکام ہو رہی ہے؟؟

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں روس کے ساتھ تیل کی خریداری کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

شہباز حکومت کی سفارتکاری آخر کیوں ناکام ہو رہی ہے؟؟

عمران خان کے دور حکومت میں یہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری کا معاہدہ کر رہا ہے۔اس وقت سیاستدانوں کے ایک گروپ نے لابنگ شروع کر دی کہ اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے لیکن عمران خان بزدار ہے کہ میں وہی فیصلہ کروں گا جو پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا ہم اپنی خارجہ پالیسی کو آزاد بنیادوں پر پاکستان کے مفاد میں بہتر بنائیں گے۔لیکن پھر تحریک انصاف کی حکومت کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے ختم کر دیا گیا اور عمران خان کو وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت آئی جس میں تیرہ جماعتوں نے عمران خان کے خلاف اتحاد بنایا اور تحریک عدم اعتماد پیش کر کے اپنا وزیراعظم شہباز شریف کو منتخب کیا اور حکومت بنائی۔اس حکومت کے پہلے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل تھے جن کو بعض وجوہات کی بنیاد پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پر اسحاق ڈار کو پاکستان میں سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کے بعد وزارت خزانہ کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ کیا بات ہے حکومت کے پاس ملک کو بچانے کے لیے کوئی بھی معاشی پلان موجود نہیں جبکہ شہباز حکومت کہتی ہے ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔اور شہباز حکومت کا موقف ہے کہ کے اس وقت جو معاشی مشکلات ہیں وہ عمران حکومت کی پیدا کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کچھ دن پہلے اعلان کیا تھا وہ سے تیل کی خریداری کر رہے ہیں لیکن آج یہ بات واضح ہوگئی ہے روس نے پاکستان کو سستے داموں دینے سے انکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مارکیٹ ریٹ کے مطابق تیل کی فروخت کا سودا کریں گے۔