نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ میں ٹھن گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جی ایچ کیو نے وزیراعظم کو سمری ارسال کئے بغیر سمری صدر کو ارسال کی ہے۔

نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ میں ٹھن گئی۔

مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما شہباز شریف نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو سمری ارسال نہ کرنا سراسر غیر قانونی عمل ہے۔وزیراعظم اس چیز کا اختیار رکھتے ہیں کہ اگر سینئر ترین اور اہل افسر کو تعینات نہ کیا جائے یا ان کا نام شامل نہ کیا جائے تو وہ اپنی مرضی سے سے اعلی ترین افسر کو منتخب کر کے آرمی چیف لگا دیں۔

اس طرح کی قیاس آرائیاں کل سے جنم لے رہی ہیں جب وزیر اعظم نے جی ایچ کیو کو خط لکھ دیا اور اور آرمی چیف کے لیے نامزد کردہ امیدواروں کے ناموں کی فہرست طلب کرلی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں میں پارلیمنٹ کو بتایا یا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل ایک یا دو دن تک مکمل ہو جائے گا آئے گا اس سے زیادہ تاخیر کرنا  ملک میں سیاسی انتشار کو فروغ دے گا۔