مسلم لیگ ق عمران خان کے اتحادی یا اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ؟؟؟

مسلم لیگ قاف کے رہنما مونس الٰہی نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان اور حکومت سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کئے۔۔۔

مسلم لیگ ق عمران خان کے اتحادی یا اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ؟؟؟

پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی الوداعی تقریب میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں۔۔ان کا کہنا تھا فوج نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہم اس پر سختی سے کاربند رہیں گے۔۔

جنرل باجوہ کا مزید کہنا تھا فوج پچھلے ستر سال سے سیاست میں مداخلت کرتی آئی ہے جس کا فوج کو بحیثیت ادارہ ہمیشہ سے نقصان پہنچا ہے اب ہم ہم اس نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنا سیاسی کردار ادا نہیں کریں گے۔ان کی ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصے بعد انہوں  نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ جنرل باجوا کے کہنے پر دیا تھا۔

مونس الٰہی کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بھگدڑ کی سی کیفیت ہے کیونکہ جنرل باجوا کے غیر سیاسی ہونے کے بیانیے کو ان کے اس بیان سے کافی حد تک نقصان پہنچا ہے۔جبکہ اسی سوال پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا جنرل باجوہ نے ہمیشہ ڈبل گیم کی ہے اور جتنے ڈبل گیم جنرل باجوہ نے کی ہے آج تک کسی فوجی جرنیل نے نہیں کی۔ان کا کہنا تھا جنرل باجوا نے آدھی ق لیگ کو ہمارے ساتھ بھیج دیا آدھی لیگ کو مسلم لیگ نون کے ساتھ بھیج دیا۔