جنرل فیض اور جنرل اظہر عباس کے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ سامنے آگئی ۔۔

خاندانی ذرائع کے مطابق کور کمانڈر بہاولپور جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جنرل فیض اور جنرل اظہر عباس کے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ سامنے آگئی ۔۔

جنرل فیض حمید جن کا نام آج کل بہت زیادہ خطبوں میں لیا جا رہا ہے انہوں نے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا بہت ہی قریبی سمجھا جاتا ہے مسلم لیگ نون کے بعض حلقے یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں عمران خان لانگ مارچ اور دھرنا جنرل فیض حمید کے منصوبے پر کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر اس ملک کو اپنی مرضی کے مطابق ڈکٹیٹ کرنا چاہتے تھے وہ جنرل فیض حمید کو بطور آرمی چیف اس ملک پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔

جنرل فیض حمید کو عمران خان کے دور حکومت میں آئی ایس آئی چیف تعینات کیا گیا اس سے قبل جنرل عاصم منیر آئی ایس آئی کی تھے جو کے آٹھ ماہ اپنے عہدے پر رہ سکے اس کے بعد انہیں حکومت کی جانب سے برخاست کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان اور جنرل باجوہ میں اختلافات کی وجہ جنرل فیض حمید ہیں کیونکہ عمران خان جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی چیف برقرار رکھنا چاہتے تھے جبکہ جنرل باجوہ کا موقف تھا فوج میں اور بھی سینئر افسران ہیں وہ کسی اور سینئر افسر کو آئی ایس آئی چیف تعینات کرنا چاہتے تھے اسی معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے اور تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو گئی گی۔

آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر جنرل فیض حمید کا نام بھی منتخب افسران میں شامل تھا گو کہ وہ سینئر موسٹ افسر نہیں تھے اور وہ سپر سیڈ نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود خاندانی ذرائع کے مطابق جنرل اظہر عباس اور جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان آرمی کی تاریخ میں بالکل ایک انہونی بات ہوگی کہ ایک جنرل سپر سیڈ نہ ہونے کے باوجود وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لے۔