کیا پاک فوج کے نئے سربراہ عوام اور فوج کے درمیان دوریاں کم کر پائیں گے؟؟؟؟

پاک فوج کے نئے سربراہ کو ان کے پیش رو کی طرف سے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔۔

کیا پاک فوج کے نئے سربراہ عوام اور فوج کے درمیان دوریاں کم کر پائیں گے؟؟؟؟

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق جنرل عاصم منیر کو اس وقت پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ان کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پر قابو پانا اور اس کا مثبت حل تلاش کرنا ہے۔

جنرل باجوہ نے اپنے 2 سالہ دور قیادت میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیاسی اور صحافتی بحران پیدا کیا۔جنرل باجوا کی پالیسیوں کی وجہ سے کئی سارے صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے پاکستان کے نامور اور مشہور صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کر دیا گیا عوام اور کچھ تنظیمیں ڈھکے چھپے الفاظ میں اس کا الزام پاک فوج پر عائد کر رہی ہیں۔

جنرل عاصم منیر کے لیے ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے اعلان کیا تھا کہ پاک فوج پچھلے 70 سال سے سیاست میں مداخلت کر تھی جو کہ غیر آئینی عمل تھا۔ان کا یہ اعلان گویا ایک اعتراف تھا۔جنرل باجوہ نے اپنی اسی تقریر میں اعلان کیا اب پاک فوج نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا ہے ہم کسی بھی سیاسی فیصلے اور عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

لیکن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے کچھ دنوں بعد مونس الٰہی نے بیان دیا کہ ہم نے حکومت بناتے وقت جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کا ساتھ دیا تھا اس بیان کے بعد جنرل باجوہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان یہ مشکوک ہوگیا۔۔۔اب جنرل عاصم منیر کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے وہ اپنے پیشرو کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں یا فوج اور عوام کے درمیان دنوں کو ختم کرکے مثبت پالیسیوں کا آغاز کرتے ہیں۔۔