شرجیل کو خوب ’’رگڑا‘‘ لگاؤ #urduheadline

-

شرجیل کے انتخاب نے مصباح کو بڑی ٹھیس پہنچائی، اب وہ کس طرح دیگر کھلاڑیوں کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ فٹنس کو اہمیت دو۔ فوٹو: فائل

شرجیل کے انتخاب نے مصباح کو بڑی ٹھیس پہنچائی، اب وہ کس طرح دیگر کھلاڑیوں کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ فٹنس کو اہمیت دو۔ فوٹو: فائل

’’یار یہ مصباح پلیئرز کو خوب رگڑا لگاتا ہے،خود تو ریٹائر ہوگیا مگر ہم سے چاہتا ہے کہ گراؤنڈ کے 10 راؤنڈ لگائیں،خوب ایکسرسائز کریں، بریانی نہ کھائیں،وغیرہ وغیرہ اس کی وجہ سے ہم پریشان ہو گئے لیکن آپس کی بات ہے فٹنس تو اچھی ہو گئی ہے‘‘

اگر آپ پاکستان ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی سے بات کریں تو وہ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرے گا، مصباح الحق اور یونس خان کو ریٹائر ہوئے کئی برس بیت چکے لیکن دونوں اب بھی اپنی فٹنس پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے، نوجوان بھی ان سے ریس لگا لیں آسانی سے نہیں جیت پائیں گے،دونوں کھانے پینے میں حد سے زیادہ احتیاط برتتے ہیں، اگر مصباح 40 سال سے زائد عمر تک بھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہے تو اس میں فٹنس کا بہت بڑا کردار تھا، وہی مصباح جب قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر بنے تو انھوں نے فٹنس کلچر لانے کی کوشش شروع کر دی۔

کھلاڑی ان سے تنگ بھی آئے لیکن پھر یہ اعتراف بھی کرتے تھے کہ اس سختی کا انھیں فائدہ ہوا،پھر وہ اعلیٰ حکام کی آنکھ کا تارا نہ رہے تو ایک اوسط درجے کے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد وسیم کو چیف سلیکٹر کا عہدہ سونپ دیا گیا، انھیں لانے والے اب جو کہتے ہیں ان کو وہی کرنا پڑتا ہے، وسیم دورئہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کیلیے اسکواڈز منتخب کرنے کے بعد سے شدید تنقید کی زد میں ہیں، بورڈ نے تنگ آ کر انھیں خود اپنے دفاع کا کام سونپ دیا اور وہ یوٹیوب چینلز تک پر انٹرویوز دے کر اپنے فیصلوں کی صفائیاں دیتے رہے۔

ظاہر ہے شرجیل خان کو اسکواڈ میں لینے کا بھی کسی نے ان سے کہا ہی ہوگا،112 کلو کے داغدار ماضی والے کرکٹرکو منتخب کرتے ہوئے انھیں وضاحتیں بھی نہیں سوجھیں، ایسے میں یہ کہہ دیا کہ ’’فٹنس نہیں کارکردگی اہمیت رکھتی ہے، شرجیل کے جیسے دیگر کھلاڑی بھی اگر باصلاحیت ہیں تو موقع پا سکتے ہیں‘‘ سب سمجھ گئے کہ اب اگلی باری اعظم خان کی ہے۔

شرجیل کے انتخاب نے مصباح کو بڑی ٹھیس پہنچائی، اب وہ کس طرح دیگر کھلاڑیوں کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ فٹنس کو اہمیت دو،ہیڈ کوچ نے بھی اپنی اتھارٹی منوا لی اور کیمپ میں شرجیل کو ’’رگڑا‘‘ لگانے لگے، انھیں پلیئنگ الیون میں شمولیت کیلیے تین ہفتوں میں وزن 96 تک لانے کا ٹاسک مل گیا،بظاہر ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا ورنہ شرجیل کب کا ایسا کر چکے ہوتے، مگرمصباح نے محمد وسیم کو پیغام دے دیا کہ تم کسی پلیئر کو اسکواڈ میں منتخب کر سکتے ہو مگر کھلانا نہ کھلانا تو ہمارا ہی کام ہے۔

پہلے انٹرااسکواڈ میچ میں بھی شرجیل کو موقع نہیں ملا، اس سے ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے ایک پیج پر ہونے والی بات بھی غلط ثابت ہو گئی،البتہ اس محاذ آرائی کا کارکردگی پر خراب اثر پڑ سکتا ہے،ایک مخصوص گروپ شرجیل کو قومی اسکواڈ میں واپس لانا چاہتا تھا وہ لے آیا مگر اس سے ٹیم کی ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے،وسیم کو ابھی آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے مگر وہ متنازع ہو چکے، ایسا لگتا ہے انھیں ڈمی بنا کر رکھا گیا ہے تاکہ من پسند کرکٹرز کو اسکواڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔

موجودہ پی سی بی انتظامیہ ویسے ہی تنازعات میں گھری ہوئی ہے، سلیکشن کے معاملات سے اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خیر امید کرتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں ٹیم کی کارکردگی اچھی رہے گی، ہوم سیریز میں بھی پروٹیزکی بی ٹیم سے مقابلہ کرنے کا موقع ملا تھا اب ٹور کے دوران بھی ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ دوسرے درجے کی سائیڈ میدان میں اتارے گا، کئی اسٹارز آئی پی ایل کھیلنے کیلیے بھارت جا رہے ہیں، ویسے یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے، پی ایس ایل کو ری شیڈول کرنے کی میٹنگ میں جب بعض فرنچائز اونرز نے یہ تجویز سامنے رکھی کہ جنوبی افریقہ کا دورہ ملتوی کر کے اپنی لیگ مکمل کرا لیں تو بورڈ حکام نے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس سے میزبانوں کو مالی نقصان ہوگا۔

ان سے یہ تک کہا گیا کہ جب اپنے گھر میں آگ لگی ہو تودوسروں کا نہیں سوچتے مگر پھر بھی تجویز نہ مانی، اب جنوبی افریقہ نے اس کا صلہ کچھ اس طرح سے دیا کہ اپنے کھلاڑیوں کو بھارت جانے کی اجازت دے کر سیریز کی اہمیت خود ہی کم کر دی،اسی لیے کہتے ہیں پہلے اپنے لیے سوچو، ویسے یہ ٹور کر کے بھی پی سی بی پروٹیز کو بہت بڑا فیور دے رہا ہے، وہاں کورونا کی نئی قسم کے سبب حالات اچھے نہیں،آسٹریلیا نے دورے سے انکار کر دیا تھا۔

انگلینڈ نے بھی بائیو ببل پر سوال اٹھاتے ہوئے سیریز ادھوری چھوڑ دی تھی، پاکستان نے حال ہی میں جنوبی افریقی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی مگرہم اپنے کھلاڑیوں کووہاں بھیج کر خطرے میں ڈال رہے ہیں، اس پر بعض پلیئرز نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا خوف دور کرنے کیلیے اگر چیئرمین اور سی ای او بھی چند روز کیلیے ساتھ چلے جائیں تو اچھا رہے گا،ویسے بھی دونوں کے پاس زیادہ کام بھی نہیں ہے، پی ایس ایل تو بے تحاشا مسائل کے باوجود جیسے تیسے چل ہی رہی ہے۔

مسلسل دوسرے برس التوا پر بھی بورڈ حکام کو کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت نے کچھ نہیں کہا، اب توعوام بھی یہ بھولنے لگے ہیں، سابق چیئرمین ذکا اشرف تک یہ کہہ چکے کہ بورڈ میں گروپنگ موجود ہے، جب شعیب اختر جیسا بولر وسیم خان کی تعریفیں کرتے ہوئے چیئرمین پر سوال اٹھائے تو سمجھ جائیں ایسا کون کروا رہا ہے، ویسے بھی پی سی بی میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا، اس کا ثبوت پی ایس ایل میں بھی دیکھنے کو ملا جب بظاہر قریب سمجھے جانے والے دو آفیشلز میں ’’لڑائی‘‘ ہو گئی، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ تک کر لیا مگر اسے روک دیا گیا۔

یہ کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے پھر کبھی تفصیل سے آپ کو سناؤں گا،فی الحال تو سب کو یہی فکر ہے کہ ٹیم کی کارکردگی جنوبی افریقہ میں کیسی رہتی ہے، کیا پی ایس ایل مکمل ہو گی؟ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، موجودہ بورڈ حکام کے ہوتے ہوئے تو کرکٹ میں زیادہ بہتری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی،دیکھتے ہی معاملات کب تک آٹوپائلٹ موڈ پر چلتے رہتے ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

-


#urduheadline



.

-

-

اپنا تبصرہ بھیجیں