بھرپورنیند کورونا کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ نئی تحقیق #urduheadline

-

اس مطالعے میں2800 سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو شامل کیا گیا

اس مطالعے میں2800 سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو شامل کیا گیا

 واشنگٹن: تحقیق کے مطابق رات میں ایک گھنٹہ اضافی نیند سے کورونا میں مبتلا ہونے کے خطرات کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ 

طبی جریدے ’ بی ایم جےنیوٹریشن، پروینشن اینڈ ہیلتھ‘ میں حال ہی میں شائع ہونے والے مطالعے سے کورونا پر ہونے والی تحقیق میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ایسے 2800سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو شامل کیا گیا جو اس وبا کے آغاز سے تاحال کورونا کا سامنا کر رہے ہیں۔

تحقیق میں شامل جن ہیلتھ کیئرورکرز کورات میں سونے کے لیے ایک گھنٹا اضافی وقت دیا گیا ان میں کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک کم ہوگیا۔ جب کہ وہ ورکرز جو گہری نیند سونے میں ناکام رہے ان میں وائرس سے متاثر ہونے کے خطرات بڑھ گئے۔

اس نئی تحقیق کے بارے میں ’اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی ویکسنر میڈیکل سینٹر‘ میں ’سلیپ میڈیسن‘ کے ماہر ڈاکٹر اسٹیون ہولفنگر کا کہنا ہے کہ نیند میں کمی سے انسانی جسم بہت سے مسائل کا شکار ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے ہیلتھ ورکرز میں کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم اس بات کو مزید ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ اسی نوعیت کی ایک تحقیق گزشتہ سال ’یو ایس نیشنل لائبریری آف سائنس‘ میں شائع ہوچکی ہے۔ جس میں کورونا وائرس کو چین کے تناظر میں دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کورونا میں مبتلا ہونے والے ایسے افراد جنہوں نے اس بیماری کا شکار ہونے سے ایک ہفتے قبل بھرپور نیند نہیں لی تھی ان کے جسم میں اس وائرس نے بہت نقصان پہنچایا۔

محقیقین کے مطابق انسانی جسم میں سونے اور جاگنے کے چکر میں اہم کردار ادا کرنے والے ہارمون ’میلا ٹونن‘ کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے جس سے کووڈ 19  وائرس کو توڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کیونکہ بھرپور نیند انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہمارا جسم انفیکشن سے لڑتے ہوئے ایک  پروٹین ’ سائٹو کنز‘ خارج کرتا ہے جس سے نیند آتی ہے اور بھرپور نیند نہ صرف ہمارے مدافعتی نظام بلکہ ہماری زندگی کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے۔ تاہم اس تحقیق میں مزید پیش رفت جاری ہے۔

 

-


#urduheadline



.

-

-

اپنا تبصرہ بھیجیں