26 نومبر کے بعد راولپنڈی سے اگلی منزل کیا ہوگی؟؟ کیا عمران خان اپنے مقاصد حاصل کر پائیں گے؟؟؟

عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حقیقی آزادی مارچ کا اعلان کردیا تھا جس کے سلسلے میں وہ آج راولپنڈی میں میں ایک جلسہ عام کرنے جا رہے ہیں۔

26 نومبر کے بعد راولپنڈی سے اگلی منزل کیا ہوگی؟؟ کیا عمران خان اپنے مقاصد حاصل کر پائیں گے؟؟؟

قاتلانہ حملے کے بعد صحت کی خرابی کی وجہ سے عمران خان لانگ مارچ میں شرکت نہیں کر سکے لیکن انہوں نے آج چھبیس نومبر کو راولپنڈی میں جلسے میں شرکت کا اعلان کر دیا انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان راولپنڈی پہنچ کر کریں گے۔جبکہ اس پر نون لیگ کا کہنا ہے اگر عمران خان امن و امان کی صورتحال کو خراب نہیں کریں گے تو ہم ان کا استقبال خوش دلی سے کریں گے بصورت دیگر ان کا استقبال رانا ثناءاللہ خود کریں گے۔

عمران خان کا حقیقی آزادی کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ملک کو کرپشن سے چورو سے لٹیروں سے ڈاکو سے پاک کرنا چاہتے ہیں ان کی اصلی جدوجہد اس ملک میں ایک اسلامی اور شفاف نظام لانا ہے۔عمران خان پہلے اپنی حکومت کے خاتمے کا سبب اسٹیبلشمنٹ اور امریکی سازش کو ٹھہراتے رہے لیکن گزشتہ چند دنوں سے ان کا کہنا تھا میں مان لیتا ہوں کہ اس سازش میں ملوث نہیں تھا اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی سازش نہیں کی۔

کیا عمران خان ان آج بروز 26 نومبر اپنی اگلی منزل کا اعلان کریں گے کیا حسب معمول یو ٹرن لیتے ہوئے ملکی مفاد کی خاطر اپنا بیانیہ ترک کر کے کے اسمبلیوں میں واپس لوٹ آئیں گے۔وکلاء برادری اور تمام سیاسی جماعتیں عمران خان کو اسمبلیوں میں واپس آنے کی دعوت دے رہی ہیں جبکہ عمران خان کا کہنا تھا ہم اسمبلیوں سے استعفے دے چکے ہیں اور نئے انتخابات ہونے تک پاکستان تحریک انصاف کسی بھی اسمبلی کا حصہ نہیں بنے گی۔