عشق ممدوح – ایکسپریس اردو #urduheadline

-

بات صرف سچی اور رسوائی والی ہی نہیں بلکہ حیرت کی بھی ہے کہ موجودہ مادہ پرست اور خودغرض دور میں بھی مغرب ومشرق میں عشق کی مثالیں عام ہیں۔

اور سچی بات یہ بھی ہے کہ اپنے ہاں کسی ’عورت‘ سے عشق کرنے والا پورے خلوص سے عشق کے باوجود ’’مادہ پرستی‘‘ کے الزام سے نہیں بچ سکتا! اور عشق کام یاب ہوجائے تو یہی مادہ پرستی زن مریدی سے ملقب ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل عشاق کے سلسلے میں عشق حقیقی اور مجازی کی اصطلاحیں عام تھیں لیکن جب سے سوشل میڈیا پر بھی عشق کا سلسلہ عام ہوا ہے تو عشق مجازی مزید مجازی ہی نہیں بلکہ اور مزے دار ہو گیا ہے۔ پرانے عشاق کا عشق گلی محلہ اور اسکول مدرسہ تک محدود ہوتا تھا بقول شاعر

’’اول عشق مدرسے آیا شرم حیا دا سبق بھلایا۔‘‘

جب کہ موجودہ دور میں عشق نہ صرف بین الگلیاتی (کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بین الکلیاتی بھی) اور بین المحلاتی بلکہ بین الاقوامی اور بین البراعظمی و بین نژادی بھی ہو گیا ہے۔

اب یہ خبریں عام ہیں کہ پاکستانی لڑکا چینی لڑکی بیاہ لایا یا چینی لڑکے نے پاکستانی لڑکی سے شادی کرلی۔ یوں ایغور مسئلے کے باوجود پاک چین یوئی وانگ سوئی ہو رہا ہے__یعنی پاک چین دوستی مضبوط تر ہو رہی ہے __ اور اب فلمی گیتوں میں ہی نہیں بلکہ آگرے کا دولہا اگر چاہے تو سوشل میڈیا پر کسی انگریزن سے مجازی تعلقات قائم کرکے حقیقت میں انگریزی دلہن لا سکتا ہے (واضح رہے کہ یہاں آگرے سے ہماری مراد لیاری والی آگرہ تاج کالونی ہے نہ کہ ہندستانی تاج محل والا آگرہ)۔

عشق کی تازہ ترین داستان جو کہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر بڑا رش لے رہی ہے وہ ہیر رانجھا کی نہیں بلکہ ’’ہیری میگھن‘‘ کی داستان عشق ہے۔ صاحبو! اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ’’یہ مال ودولت دنیا و رشتہ و پیوند‘‘، اعلیٰ مقام اور اونچا عہدہ ہی خوشی ومسرت کا باعث ہے تو ایسا قطعی نہیں ہے، اس کے خلاف ماضی اور حال کی کئی مثالیں دست یاب ہیں۔ لیکن ہم یہاں چوںکہ برطانوی شاہی خاندان کی بات کر رہے ہیں تو مثال بھی شاہی خاندان کی ہی دیں گے۔ شاہی خانوادوں کا ہر فرد ہی خوش یا خوش قسمت نہیں ہوتا۔ آج سے کوئی پون صدی پہلے کی بات ہے کہ دسمبر 1936ع میں برطانیہ کے محض ایک سال قبل نشین ہونے والے شاہ ایڈورڈ ہشتم نے اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے انگلستان اور ہندوستان کی حکومتوں سے دست برداری کا اعلان کرڈالا اور برطانیہ اور شاہی خاندان کو ایک سیاسی اور شاہی بحران میں مبتلا کردیا۔

بعدازاں شہزادہ چارلس کی مثال ہے جو کہ عشق تو کر بیٹھے لیکن ’’خیال ترک تمنا‘‘ ہی کرڈالا-اور تخت تو کیا ترک کر تے خاندان کو بھی نہ تیاگ کر پائے اور ہمارے ایک ’’بین اللسانی لیڈر‘‘ کے ورد زبان ساحر لدھیانوی کے شعر

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو

ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

کے مطابق مجبوراً شہزادی ڈیانا سے شادی کرلی۔ وہی ڈیانا کہ جس کی محبت میں بعد میں ایک زمانہ مبتلا ہوا اور ابھی تک ہے۔ کیا مردوزن کیا پیرو جواں- اور کئی عاشقان پاک طینت تو، جب کہ وہ خاک ہوگئی ہوں گی تو بھی ان کی چاہت میں مبتلا ہیں۔ اور آنجہانی شہزادی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی آنکھیں اور گلا بھر آتا ہے۔ اس موقع پر جوش ملیح آبادی صاحب کا قصہ یاد آگیا، بڑے خاصے کی چیز ہے۔ مرحوم اپنے گھر میں دوستوں سے سابقہ محبوباؤں کا تذکرہ کرتے کرتے آب دیدہ ہوگئے۔ اتفاق سے ان کی بیگم بھی موقع پر کسی کام سے آن موجود ہوئیں۔ رونے کا سبب پوچھا تو اب ان کو کیا کہتے کہ سابق محبوباؤں کو یاد فرما کر رویا جارہا ہے، فرمایا دیا،’’کچھ نہیں والدہ محترمہ یاد آگئی تھیں۔‘‘

سو صاحبو! چارلس صاحب میں چوںکہ وہ ہمت نہیں تھی جو کہ ایڈروڈ ہشتم میں تھی اس لیے انہوں نے شہزادی ڈیانا سے شادی کرلی اور ان سے وہ ’’مساویانہ سلوک‘‘ کیا کہ نہ خود خوش رہ سکے اور نہ ہی شہزادی ڈیانا کو رہنے دیا۔ وہ شاہی خاندان کو تو بحران میں نہ ڈال سکے لیکن ان کی ازدواجی زندگی روز اول سے مبتلائے بحران رہی۔ اور یہ شادی شہزادی ڈیانا کی مرگ مفاجات پر منتج ہوئی۔ اس کے بعد شہزادہ چارلس نے اپنی محبوبہ کمیلا پارکر (دل چسپ بات یہ ہے کہ اردو میں کمیلا قصاب خانے کا مترادف ہے اور ایک بار کمیلا نے چارلس پر مذاقاً چھری بھی تان لی تھی) سے شادی رچالی۔ شہزادی ڈیانا کی کہانی کا الم ناک انجام چارلس و کامیلا کی داستان کو طرب ناک بنا گیا۔

نسیم صبح گلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی

کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی

لیکن ٹھہر یے عشق اور بغاوت کا تسلسل جاری ہے_ پکچر ابھی باقی ہے:

شہزادی ڈیانا کی اولاد بھی انہی کی طرح باغی ثابت ہوئی۔ نہ صرف شہزادہ ولیم نے ایک عام خاتون سے شادی کرلی بلکہ شہزادہ ہیری نے بھی کسی شہزادی سے شادی کرنے کے بجائے ایک عام خاتون کو پسند کیا۔ اس پر مستزاد کہ ان کی دلہن ایک رنگ دار نسل کی خاتون تھیں-یعنی ایک تو کریلا دوسرا نیم چڑھیلا۔۔۔ معاف کیجیے گا نیم چڑھا! یہ صورت حال شاہی خاندان کے لیے زیادہ تکلیف دہ تھی اور آخرکار شہزادہ ہیری کو نہ صرف شاہی رتبے سے دست بردار ہونا پڑا بلکہ شاہی خاندان کو بھی چھوڑنا پڑا۔ اور اب یہ طائران عشق طلائی تیلیاں توڑ کر قفس شاہی سے باہر آزاد کھلی فضاؤں میں منڈلا رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی یہ آزادانہ پرواز شاہی خاندان کی خفگی و پستی کا سبب بن رہی ہے اور شاہی خاندان وضاحتیں اور صفائیاں پیش کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

میڈیا میں گردش کرتی اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے شہزادے بلکہ سابق شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ سابق شہزادی میگھن مرکیل نے گذشتہ دنوں مشہور امریکی میزبان اوپرا ونفرے کو دو گھنٹے طویل انٹرویو دیا ہے، جس کے بعد شاہی خاندان کے ستارے گردش میں ہیں۔ شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد اپنے پہلے انتہائی ذاتی نوعیت کے انٹرویو میں میگھن مرکیل نے کھل کر باتیں کی ہیں۔ یوں کہیے کہ شاہی خاندان کا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا ہے اور اسے بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

میگھن مرکیل نے اوپرا ونفرے کو انٹرویو میں بتایا کہ شاہی خاندان کی طرف سے انہیں وہ محبت اور تحفظ نہیں ملا جوکہ کسی شریف خاندان کی بہو بیٹی کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ،’’مجھے شاہی خاندان کی طرف سے تحفظ نہیں ملا (حدتو یہ ہے کہ) شاہی خاندان کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ ہمارے بچے کا رنگ سیاہ ہو سکتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد شاہی خاندان کی طرف سے بچے کی تصویر کے سلسلے میں بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔‘‘

میگھن کی بقول شاہی خاندان کے ایک فرد نے ایک موقع پر خدشہ ظاہر کیا کہ،‘‘آرچی (میگھن اور ہیری کے فرزند) کا رنگ کس قدر سیاہ ہوگا۔‘‘

اوپرا ونفرے نے جب اس فرد کے بارے میں جاننا چاہا تو میگھن نے اس کا نام لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کا انکشاف موصوف کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہیری نے بھی اس سلسلے میں کسی تبصرے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو کہ وہ کسی سے بھی بیان نہ کرنا چاہیں گے۔

ان کی اس بات سے اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ شاہی خاندان سے کس قدر ناراض ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کا بھرم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

شاہی خاندان پر نسل پرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے میگھن نے کہا کہ ’’شاہی خاندان کے افراد نہیں چاہ رہے تھے کہ ہمارا بیٹا شہزادہ یا شہزادی کہلائے۔‘‘

ظاہر ہے کہ اس کا بنیادی سبب اس کا سیاہ فام ہونا ہی ہوسکتا ہے۔

میگھن نے اوپرا کو بتایا کہ ’’میں شاہی خاندان سے اس قدر ناراض تھی کہ خودکشی تک کا سوچ لیا۔ میں نے ذہنی تناؤ کے عالم میں شاہی خاندان سے بھی مدد چاہی لیکن کوئی مداوا نہ ہوا۔‘‘

اوپرا نے اس موقع پر ان سے پوچھا کہ کیا خودکشی کی خیالات انہیں ایام حمل میں آئے؟ تو انہوں نہ کہا کہ’’یہ بالکل واضح خیالات تھے۔‘‘

’’شاہی خاندان کا حصہ بننے کے بعد مجھے خاموش کرادیا گیا۔ مجھے تو علم ہی نہ تھا کہ شاہی خاندان کا فرد کیسے رہتا ہے۔ میری کردارکشی کی گئی۔‘‘

اپنی اس ِشدید جذباتی کیفیت کے بارے میں انہوں مزید بتایا کہ’’میرا جی زندگی سے اچاٹ ہو گیا تھا۔ یہ ایک صریحاً واضح، حقیقی اور خوف ناک کیفیت تھی اور مجھے یاد ہے کہ ہیری نے اس دوران کس طرح سے مجھے سنبھالا اور سہارا دیا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کیٹ مڈلٹن سے کسی بھی قسم کے اختلافات اور تنازعات کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے ان سے نہایت اچھے تعلقات ہیں اور انہوں کیٹ مڈلٹن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ،’’کیٹ مڈلٹن ایک اچھی انسان ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ بھی ذاتی طور پر اس سلسلے میں افواہوِں کی تردید کرنا پسند کریں گی۔‘‘

اس موقع پر شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ’’شاہی خاندان سے اختلافات کے بنیاد پر ہی اپنی والدہ کو پیش آنے والی تکالیف کے بارے میں سوچ کر ان کا دل تڑپ تڑپ اٹھتا ہے، کیوںکہ وہ اور میگھن تو آج ساتھ ساتھ ہیں جب کہ شہزادی ڈیانا کو یہ سب کچھ تنہا ہی جھیلنا پڑا تھا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ،’’ہم نے شاہی خاندان میں گزارہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی،’’لیکن ان کی طرف سے مناسب رویہ کے بجائے مایوسی اور ناکامی نصیب ہوئی۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے والد شہزادہ چارلس کی شکایت کرتے کہا کہ’’مجھے اپنے والد شہزادہ چارلس کی طرف سے بھی اس معاملے میں کوئی حمایت نہ مل سکی جب کہ برطانوی شاہی خاندان نے میری بیوی سے جو سلوک کیا وہ یقیناً میری والدہ کے لیے پریشان کن ہوتا۔‘‘

36 سالہ ہیری نے اوپرا کو انٹرویو میں بتایا کہ’’میگھن کے خلاف ٹیبلائڈ پریس کی طرف سے نسل پرستانہ سلوک کے بارے میں بھی شاہی خاندان کے کسی فرد کی طرف سے زبان سے کوئی حرف حمیت و حمایت نہیں نکلا۔‘‘

ہیری کے مطابق میڈیا خاص طور پر ٹیبلائڈ پریس نہ صرف یہ کہ نسل پرست ہے لیکن وہ برطانوی معاشرے کو مسموم و مکدر کیے دے رہا ہے۔ البتہ انہوں نے ملکہ برطانیہ کے حوالے سے کہا کہ وہ ان سے قطعاً ناراض نہیں، وہ ان سے رابطے میں ہیں اور ان سے ہماری گفتگو ہوتی رہتی ہے اور حال ہی میں انہوں نے آرچی سے وڈیو کال پر بھی گفتگو فرمائی ہے۔

قصۂ ہیری و میگھن ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے تازہ ترین انٹرویو کے سلسلے میں اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ انٹرویو بی بی سی جیسے ادارے نے بھی پیش کیا ہے اور ہیری و میگھن کے اس انٹرویو کے حوالے سے علاقائی اور عالمی میڈیا پر مختلف تبصرے اور تجزیے پیش کیے جارہے ہیں لیکن اکثر مبصر اور تجزیہ نگار اس نکتے پر متفق ہیں کہ شاہی خاندان کو چھوڑنے کے بعد یہ میاں بیوی خوش ہیں اور اپنی خوشیوں کے بجائے شاہی خاندان سے دست برداری اس جوڑے کو راس آگئی ہے۔

شاہی خاندان کا ممنوع عشق دنیا بھر میں ممدوح ہو رہا ہے۔

-


#urduheadline



.

-

اپنا تبصرہ بھیجیں