ہندوستان سے کوئی باضابطہ بیک چینل رابطہ نہیں، شاہ محمود قریشی #urduheadline

4


پاکستان، گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی خدمت اپنے وسائل سے کر رہا ہے, (فوٹو :فائل)

پاکستان، گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی خدمت اپنے وسائل سے کر رہا ہے, (فوٹو :فائل)

ابو ظبی: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا. اگر ہندوستان 5 اگست کے اقدامات پر نظر ثانی کرتا ہے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں.

کشمیر کے معاملے پر ہم صرف نظر نہیں کر سکتے. میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی باضابطہ بیک چینل رابطہ نہیں ہے ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں

ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ابو ظہبی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کیا۔  ان کا کہنا تھا کہ کل میری متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ملاقات طے ہے، ہم دونوں ممالک سفارتی برادرانہ تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے پر مختلف پروگرام ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میری ہندوستان کے وزیر خارجہ امور جے شنکر سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے،  ہندوستان اور پاکستان کی گفتگو جب بھی ہو گی اس کے لیے ہمیں دو طرفہ سوچنا ہوگا. پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا ہم اپنے تمام ہمسایوں بشمول ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات کے حامی ہیں۔ اگر ہندوستان 5 اگست کے اقدامات پر نظر ثانی کرتا ہے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں.

انہوں نے کہا کہ کشمیر، سرکریک، اور پانی کے مسئلے پر آئیں اور میز پر بیٹھ کر بات کریں. لیکن مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خاتمہ تو کریں۔ اللہ کا کرم ہے کہ گذشتہ ڈھائی سالوں میں ہندوستان کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں.

افغانستان کی بابت ان کا کہنا تھا افغان وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہواہے،  افغان امن عمل اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے. بہت سے ممالک افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں. ترکی نے بھی اس حوالے سے ایک کانفرنس رکھی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ طالبان اس کانفرنس میں شرکت کریں.  اورافغان سے وابستہ تمام فریقین مل کر آپس میں افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

پاکستان، گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی خدمت اپنے وسائل سے کر رہا ہے. افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی برادری نے ان سے صرف نظر کیا ہوا ہے

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں جواپنی محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی معیشت کو مستحکم بناتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں. جس کے لیے ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ مشاورت میں ہیں۔ ہماری خواہش ہےکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی، پاکستان کی سیاست اور پالیسی سازی میں شامل ہو سکیں۔


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.