کووڈ 19 سے صحت یاب افراد کے لیے ایک اور خطرہ – #urduheadline

4


کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کو یوں تو کئی ماہ تک مختلف طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تاہم ایسے افراد میں ذہنی امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے ہر 3 میں سے ایک مریض کو بیماری کو شکست دینے کے 6 ماہ بعد مختلف دماغی امراض کا سامنا ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 2 لاکھ 36 ہزار سے زائد کووڈ 19 کے مریضوں کے الیکٹرونک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 34 فیصد افراد کو بیماری کو شکست دینے کے بعد ذہنی اور نیورولوجیکل امراض کا تجربہ ہوا جن میں سب سے عام ذہنی بے چینی یا اینگزائٹی ہے۔

نیورولوجیکل امراض جیسے فالج اور ڈیمینشیا کی شرح کرونا وائرس کے صحت یاب مریضوں میں بہت کم ہے، مگر کووڈ سے سنگین حد تک بیمار ہونے والوں میں یہ غیرمعمولی نہیں۔

تحقیق کے مطابق کووڈ کے جو مریض آئی سی یو میں زیرعلاج رہے، ان میں سے 7 فیصد میں فالج اور لگ بھگ 2 فیصد میں ڈیمینشیا کی تشخیص ہوئی۔

طبی جریدے دی لانسیٹ سائیکٹری میں شائع تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ یہ ذہنی و دماغی امراض کووڈ 19 کے ایسے مریضوں میں زیادہ عام نظر آتے ہیں جو فلو یا سانس کی نالی کی دیگر بیماریوں کا سامنا کووڈ کے ساتھ کرتے رہے۔

پہلے سے امراض، عمر، جنس اور نسل سمیت دیگر عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے تخمینہ لگایا گیا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں بیماری سے صحت یابی کے بعد ذہنی و دماغی امراض کا خطرہ فلو کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں شامل پروفیسر پال ہیریسن کا کہنا تھا کہ یہ مریضوں کی بہت بڑی تعداد کا ڈیٹا ہے اور اس سے کووڈ 19 کے بعد ذہنی امراض کی بڑھتی شرح کی تصدیق ہونے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سنگین امراض (جیسے فالج اور ڈیمینشیا) اعصابی نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اگرچہ یہ بہت زیادہ عام نہیں مگر پھر بھی کووڈ کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والوں میں ان بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر امراض کا خطرہ مریضوں میں زیادہ نہیں، مگر ہر عمر کی آبادی پر اس کے اثرات ضرور نمایاں ہیں۔

تحقیق کے مطابق کووڈ کو شکست دینے کے بعد جن ذہنی و دماغی امراض کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ان میں اینگزائٹی ڈس آرڈرز (17 فیصد مریضوں کو)، مزاج پر منفی اثرات (14 فیصد)، سکون کے لیے ادویات یا دیگر کا زیادہ یا غلط استعمال (7 فیصد) اور بے خوابی (5 فیصد) نمایاں ہیں۔

اعصابی امراض کی شرح بہت کم ہے جیسے برین ہیمرج کا خطرہ 0.6 فیصد اور ڈیمینشیا کی شرح 0.7 فیصد ہوسکتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ 6 ماہ کے بعد مریضوں کی حالت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.