کرونا وائرس کی ایک اور قسم کے بارے میں پریشان کن انکشاف – #urduheadline

6


کرونا وائرس کے پھیلنے کے ایک سال بعد اب اس وائرس میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں جنہوں نے ماہرین کو پریشان کر رکھا ہے، حال ہی میں کرونا وائرس کی ایک نئی قسم کے بارے میں پریشان کن انکشاف ہوا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ برازیل میں سب سے پہلے نمودار ہونے والی کرونا وائرس کی نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ برازیل میں دریافت ہونے والی کرونا وائرس کی نئی قسم پی 1 ماضی میں کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

برازیل کرونا وائرس کی وبا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے بالخصوص میناوس نامی شہر پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سنہ 2020 کے وسط میں میناوس کے 75 فیصد کے قریب افراد کرونا کی پہلی لہر سے متاثر ہوئے تھے اور کچھ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اس شہر میں بیماری کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔

مگر سنہ 2020 کے اختتام پر اس شہر میں کووڈ کی دوسری لہر سامنے آئی جس میں پی 1 قسم کا ہاتھ تھا۔

تحقیق میں شامل کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کہنا تھا کہ ہمارے ماڈل سے عندیہ ملتا ہے کہ پی 1 کرونا وائرس کی دیگر اقسام سے زیادہ متعدی ہے اور دیگر اقسام سے ہونے والی بیماری سے جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

محققین نے پی 1 میں 17 میوٹیشنز کو دریافت کیا جن میں سے 3 اسپائیک پروٹین میں ہوئی تھیں۔

اسپائیک پروٹین میں ہونے والی 3 میوٹیشنز سے اس نئی قسم کو انسانی خلیات کو مؤثر طریقے سے جکڑنے میں مدد ملی، جن میں سے ایک میوٹیشن این 501 وائے برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی دیکھی گئی تھی۔

اس میوٹیشن سے وائرس کے لیے انسانی خلیات کو جکڑنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے جبکہ ایک اور میوٹیشن ای 484 کے تھی جو وائرس کو موجودہ مدافعتی ردعمل کو پیچھے چھوڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پی 1 کورونا وائرس کی اوریجنل قسم کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.4 سے 2.2 گنا زیادہ متعدی ہے۔

اسی طرح یہ قسم پرانی اقسام سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی امیونٹی کی شرح کو بھی 10 سے 46 فیصد تک کم کر سکتی ہے، جس سے لوگوں میں دوسری بار کووڈ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کے مطابق میناوس کے رہائشیوں میں پی 1 سسے متاثر ہونے پر موت کا خطرہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.2 سے 1.9 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

برازیل میں دریافت ہونے والی یہ نئی قسم پاکستان سمیت متعدد ممالک تک پھیل چکی ہے۔

Comments


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.