پاکستانی حکومت امریکہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع سفارت خانے کی پرانی عمارت کیوں فروخت کرنا چاہتی ہے؟

یہ عمارت سید امجد علی نے 1953 سے 1956 کے درمیان خریدی تھی اور 15 سالوں میں کوئی تزئین و آرائش نہیں کی گئی۔

پاکستانی حکومت امریکہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع سفارت خانے کی پرانی عمارت کیوں فروخت کرنا چاہتی ہے؟

پاکستانی حکومت امریکہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع سفارت خانے کی پرانی عمارت کیوں فروخت کرنا چاہتی ہے؟ اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت امریکہ واشنگٹن ڈی سی نیو یارک میں پاکستانی سفارت خانے کی پرانی عمارت کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔ یہ عمارت گزشتہ 15 سال سے زیر استعمال نہیں ہے اس لیے کچھ عرصے سے یہ مذاکرات گردش کر رہے ہیں کہ پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اس عمارت کو فروخت کرنا چاہتی ہے!! یہ عمارت سید امجد علی نے 1953 سے 1956 کے درمیان خریدی تھی اور 15 سالوں میں کوئی تزئین و آرائش نہیں کی گئی۔ سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ یہ سرکاری جائیداد ہے اور جب بھی پاکستانی حکومت اسے فروخت کرنا چاہے تو فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ واشنگٹن ڈی سی پرائم لوکیشن پر واقع ہے اور پراپرٹی کمپنی کے مطابق اس کی قیمت 66 لاکھ ڈالر ہے۔ اس رپورٹ سے قبل حکومت پاکستان نے کہا تھا کہ ہم نے سفارت خانے کی اس پرانی عمارت کو فروخت کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ ہم ایک سقفتی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان کوئی ٹیکس نہیں دے رہی لیکن اگر کوئی کمرشل بائیر یہ عمارت خریدے تو وہ ٹیکس ادا کرے گا۔