وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی کی امریکی اپیل منظور

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی کی امریکی اپیل منظور

لندن ہائیکورٹ میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو جاسوسی کے الزام میں امریکا کے حوالے کرنے سے متعلق اپیل منظورکرلی گئی۔

برطانوی اعلیٰ عدالت کے چیف جسٹس لارڈ برنیٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسانج کی حراست پرامریکا کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانی سے مطمئن ہیں۔

رواں سال کے شروع میں ایک عدالت نے اسانج کی امریکا حوالگی کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اسانج کی دماغی صحت امریکی عدالتی نظام کا سامنا کرنے کے لیے ٹھیک نہیں۔

امریکی حکام نے برطانوی ججوں سے کہا کہ اگر وہ اسانج کی حوالگی پر رضامند ہوں تو وہ اپنے آبائی وطن آسٹریلیا میں کسی بھی امریکی جیل کی سزا کاٹ سکتے ہیں۔

امریکی استغاثہ نے اسانج پر جاسوسی کے 17 الزامات اور وکی لیکس کی طرف سے افشا ہونے والی ہزاروں فوجی اور سفارتی دستاویزات کی اشاعت پر کمپیوٹر کے غلط استعمال کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔

ان الزامات کی زیادہ سے زیادہ سزا 175 سال قید ہے تاہم آج سنائے گئے لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل کیے جانے کا امکان ہے۔

جولین اسانج کی منگیتر اسٹیلا مورس نے عدالتی فیصلے کو ’’خطرناک اور گمراہ شدہ‘‘ قرار دیا ہے۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0