نوجوانوں کے حوالے سے خطرناک انکشاف #urduheadline

9


سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا کے شکار نوجوان مریضوں میں فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

صحت مند افراد اور نوجوانوں میں فالج کی بیماری کے امکانات نہیں ہوتے لیکن اگر وہ کورونا میں مبتلا ہوجائیں تو وہ فالج کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔ طبی جریدے جرنل اسٹروک میں شایع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نوجوان کورونا مریضوں میں فالج کے خطرنات ہم عمر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس ریسرچ میں دنیا بھر سے 136 اداروں کے 89 محققین نے حصہ لیا، اس دوران کورونا وائرس کے شکار ایسے مریضوں کے ڈیٹا کا مشاہدہ کیا گیا جن کو اسپتال میں داخل ہونے کے بعد فالج اور دیگر سنگین دماغی امراض کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین نے مذکورہ مریضوں کے ایم آر آئی ٹیسٹوں کا بھی جائزہ لیا۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ 32 ممالک کے 136 طبی مراکز میں سے کم از کم 71 میں ایک مریض کو وبا کے باعث اسپتال میں زیرعلاج رہنے یا ڈسچارج ہونے کے بعد فالج کا سامنا ہوا۔ اسی طرح 432 میں سے 323 مریض ایسے تھے جن کی دماغ اور دل کو ملانے والی شریانیں بلاک ہوگئیں اور وہ فالج کا شکار ہوئے۔

جبکہ 91 کو ہیمرج اور 18 کو دماغی شریانیں بلاک ہونے کے باعث فالج کا سامنا رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی دماغ اور دل کو ملانے والی نسوں کا بلاک ہونا زیادہ تشویش ناک ہے کیوں کہ ایسے کوئی عناصر موجود نہیں تھے اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ کورونا کا فالج سے تعلق ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 380 میں سے 144 مریض ایسے تھے جنہیں کسی قسم کی علامات نہیں تھی لیکن وہ کورونا کا شکار تھے اور وبا کی تشخصی فالج کے بعد اسپتال میں داخل ہونے سے ہوئی۔

کرونا وائرس کن طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے؟

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق سے کورونا وائرس اور نوجوان مریضوں میں فالج کے درمیان تعلق کا عندیہ ملتا ہے جو کہ خون کی شریانوں بلاک ہونے کا نتیجہ ہوسکتا ہے، ہماری تحقیق فالج کے اس امر کو جاننے میں معاونت فراہم کرسکتی ہے جس سے ماہرین علاج دریافت کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ تحقیق اب تک کی سب سے بڑی اور جامع طبی تحقیق قرار دی جارہی ہے۔

Comments


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.