عمران، زرداری اورتاثیر:فنانشل ٹائمزکے ایڈیٹرکی نظرسے #urduheadline

0


اکتوبر 2010 میں فنانشل ٹائمز کے ایڈیٹر لیونل باربر نے دورہ پاکستان کے دوران عمران خان ، آصف علی زرداری اور سلمان تاثیر سے ملاقات کی تھی۔

ان ملاقاتوں کا 3 صفحات پر مشتمل دلچسپ و مفصل احوال حال ہی میں شائع ہونے والی باربرکی کتاب ” دی پاورفل اینڈ دی ڈیمڈ: پرائیوٹ ڈائریزان ٹربولنٹ ٹائمز ” دیا گیاہے۔

باربر اوران کی اہلیہ وکٹوریہ پہلے بھارت اور پھر وہاں سے واہگہ کے راستے لاہور پہنچے تھے جسے انہوں نے ”راج کا ایک طاقتورمرکز اور سیکھنے کا قدیم شہر ” قراردیا ہے، اگرچہ اس شہر کایہ حوالہ غلط نہیں تاہم اس صدی میں ایسی بات عجیب ضرور ہے جس کی توقع غالبا انگلستان کے قدیم ترین اخبارات میں سے ایک کے سفید فام ایڈیٹر سے ہی کی جاسکتی ہے، اور کیا ہوا اگرانہوں نےکتاب میں سلمان کے انگریزی ہجے غلط لکھے ہیں۔

باربراور ان کی اہلیہ کا اس وقت کے گورنر سلمان تاثیرکی سرکاری رہائشگاہ پراستقبال کیا گیا، باربرکی لکھی گئی خصوصیات کے مطابق گورنر ہاوس میں ” شاندار باغات ، مدھم رنگوں اور اونچی چھتوں والے کشادہ کمرے ، جس میں ایک اسپرنگ بال روم تھا۔” سلمان تاثیر کو باربرنے اپنی کتاب میں ” کمزوربینائی ” رکھنے والے شخص کے طور پر بیان کیا۔

اس ملاقات میں سلمان تاثیر کی باتوں نے باربرکورچرڈ ہالبروک(پاکستان اورافغانستان کے لیے صدر اوباما کے خصوصی ایلچی ) کی یاد دلائی جن کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان نہیں ہے۔

لاہور سے باربار اسلام آباد روانہ ہوئے جہاں پاکستانی فضائیہ انہِیں سیلاب زدہ علاقوں کے دو گھنٹے کے ہیلی کاپٹر دورے پر لے گئی۔

اس کے بعد وہ اس وقت اپوزیشن میں موجود عمران خان سے ان کی بنی گالہ والی رہائشگاہ پرملنے گئے، انٹرویو لیا اور گھرکے گارڈن میں کرکٹ کا ایک راؤنڈ کھیلا۔ باربرپاکستان میں طویل عرصے سے فنانشل ٹائمز کے نمائندہ فرحان بخاری کا دیا گیا ایک نیا کرکٹ بیٹ، نئے پیڈز اور دستانے لیکر وہاں پہنچے تھے۔

باربرواضح طور پرعمران خان کے گرویدہ نظرآتے ہیں، جن کیلئے انہوں نے ” اب بھی حیرت انگیزطورپرحسین ” ، درازقد، زورآور” جیسے الفاظ استعمال کیے۔ ان کی رہائشگاہ کو خوبصورت وہوادارکہنے والے باربرنے اس گرمجوش ملاقات میں عمران خان کے فلاحی کاموں اور پاکستانی سیاست کی ”بدصورتی” پربھی بات کی۔

عمران خان سے اس ملاقات میں باربر اُن کی کم رفتار سے کرائی گئی چھ گیندوں سے آگے نہیں بڑھے جو جھاڑیوں میں غائب ہوئیں اور انہوں نے عمران خان کو بتایا ” گُڈ شاٹ ۔۔۔ لیکن اب ہمیں گیند نہیں ملے گی ”۔ اگرآپ مزید کی توقع کررہے تھے تو باربر کی اپنے اس مختصرکھیل کے حوالے سے لکھی گئی تحریرمیں پڑھ سکتے ہیں۔

باربرکی کتاب میں اگلا احوال صدرزرداری سے ملاقات کا ہے، جن کے ذاتی کمروں کو “آدھا بنکر، آدھا مزار” کے طور پر بیان کیا ہے کیوں کہ کمرے میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کی تصاویرسجی تھیں۔

باربرکے نزدیک زرداری ، “چشمہ لگائے ، سیاہ بالوں والے” ہیں اور ” رُک رُک کرانگریزی بولتے ہیں”۔ آصف زرداری اپنے لیے استعمال کیے جانے والے عوامی و اخباری خطاب کو پیراشوٹ جرنلزم کے کلاسیکی معاملے میں صدرکو “مسٹر ٹین پرسنٹ” کہنا تخلیقی سمجھتے ہیں ۔

زرداری کی بولنے کی صلاحیت پر تبصرہ کرنے کے بعد باربر نےیہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنا کھانا چکھنے کیلئے ایک ملازم رکھا ہوا ہے (ہوسکتا ہے انہیں خدشہ ہو کہ کوئی مجھے زہرنہ دے دے) ۔

باربر کولگتا ہے کہ صدر نے پاکستان اورافغانستان میں عسکریت پسندوں سے متعلق سوالات کو ٹال دیا یا نظراندازکردیا۔ انہوں نے اس ملاقات کی تفصیل یہ بتاتے ہوئے سمیٹی کہ کس طرح زرداری نے ایسے سوالات کے جواب میں یہ کہا کہ ” جب آپ سونےکی بالیاں پہنیں اور وہ بہت بھاری ہوں تو آپ انہیں اُتار دیتے ہیں ”۔

شاید باربر اس مقولے کی تفصیل میں جانے سے قاصر تھے۔



#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.