سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی بل منظور، اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں مُکے چل گئے

سندھ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کے شور شرابے کے دوران بلدیاتی ترمیمی بل منظور کرلیا گیا لیکن اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکے بھی چل گئے۔

سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی بل منظور، اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں مُکے چل گئے

اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا ، جس میں سندھ بلدیاتی ترمیمی بل ایک مرتبہ پھر ایوان میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت کا کالا قانون منظور نہیں، سندھ حکومت چور دروازے سے جمہوریت کا گلا دبا رہی ہے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ایوان میں کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کو با اختیار کیا جائے۔ گورنر سندھ نے بل پر اعتراض عائد کیا تھا، اس لئے نیا بل پیش کیا ہے جس میں اپوزیشن کی تجاویز مان لی گئی ہیں۔ ڈی ایم سیز کی کارکردگی نہیں دکھا رہی تھیں اس لئے انہیں ختم کیا، پہلے واٹر بورڈ کے چیئرمین وزیر اعلیٰ اور پھر وزیر بلدیات تھے، اب میئر اس کا چیئرمین ہوگا۔ اس کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس بھی کونسل کو دے دیا ہے۔

گھونسوں اور مکوں کی بارش

بل کی مرحلہ وار منظوری کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا اور بل نامنظور کے نعرے لگائے، اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اسی دوران اسپیکر سندھ اسمبلی نے بلدیاتی بل کی متفقہ طور پر منظوری کی رولنگ دے دی۔

پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی بلال غفار نے کاغذ پھاڑ کر وزیر اعلیٰ پر اچھال دئیے ، جس پر مکیش کمار چاولہ نے انہیں کہا تمیز سیکھو۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گھتم گھتا ہوگئے، ارسلان تاج ، شاہنواز جدون اور اویس شاہ گھنور جھگڑ پڑے ، دونوں جانب سے گھانسوں کا آزادانہ استعمال ہوا جب کہ اس دوران مکیش کمار چاؤلہ سمیت بعض وزراء بیچ بچاؤ کراتے رہے۔

’بل صوبے کی امنگوں کے مطابق ہے‘

اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں بلدیاتی نظام سے متعلق قانون بنانے کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے تحت ہم نے قانون منظور کیا، گورنر نے اس پر اعتراض کئے تو ہم نے نیا قانون منظور کیا، یہ بل صوبے کی امنگوں کے مطابق ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بل لایا گیا ہے، ٹاؤن سسٹم کا کہا گیا وہ لے کر آئے ہیں پراپرٹی ٹیکس پہلے ڈی ایم سی میں تھا، اب یونین کونسل ٹیکس لیں گے۔ ایک ان پڑھ اپوزیشن سے زیادہ خراب اور کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے پڑھا کچھ بھی نہیں ہے، اگر یہ قانون پڑھ لیتے تو بہتر تھا۔ اس بل میں اور بھی ترمیم کی گنجائش ہے لیکن اپوزیشن نے ترمیم کی تجاویز دینے کے بجائے شور مچایا۔ یہاں لسانیت شروع کی گئی ہے، ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہمیں حصہ سمجھیں، ناصر شاہ پاکستان اور سندھ کے ہیں، تم لوگ سندھ سے ہو، سندھ سے محبت کرو۔

نیا بل کیوں منظور کیا گیا؟

سندھ حکومت نے چند روز قبل ٓصوبائی اسمبلی سے بلدیاتی بل منظور کیا تھا تاہم گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بل پر اعتراض کرکے اسے واپس بھجوادیا تھا۔

گورنر سندھ نے اعتراض اٹھائے کہ نیا بلدیاتی ترمیمی بل آئین سے متصادم ہے، نئے قانون سے ڈی ایم سیز کا خاتمہ کردیا گیا ہے، ایسا کرنے سے باہمی رابطوں کا مسئلہ پیدا ہو گا، اس کے علاوہ دیہی علاقے بھی شہری علاقوں کا حصہ نہیں ہوسکتے۔

بلدیاتی ترمیمی بل میں کیا ہے؟

بلدیاتی ترمیمی بل کے تحت سندھ کے 6 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ٹاؤن بنائے جائیں گے، بل کے تحت سندھ کی ہر بلدیاتی کونسل میں خواجہ سراؤں اور خصوصی افراد کےلئے بھی ایک فیصد نشستیں بلدیاتی کونسل میں مختص ہوں گی، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں خواجہ سراؤں کے لئے نشستیں مختص ہوں گی، اس کے علاوہ یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤنز اور میونسپل کمیٹیز میں بھی خواجہ سراؤں کی نمائندگی ہوگی۔

ایس ایس پی کا متعلقہ بلدیاتی چیئرمین سے رابطے کا پابند ہوگا۔ پولیس افسران بلدیاتی کونسل کو پولیس امور اور امن وامان سے متعلق رپورٹ دیں گے تاہم پراسیکیوشن، پولیس ایڈمنسٹریشن اور مقدمات میں بلدیاتی نمائندوں کا اختیار نہیں ہوگا۔

سندھ بلدیاتی ترمیمی بل کے تحت پرائمری و سیکنڈری اسکول اور بنیادی مراکز صحت کے افسران بلدیاتی کونسلز کو سہ ماہی رپورٹ دینے کے پابند ہوں گے۔ محکمہ کھیل، محکمہ خصوصی افراد، زراعت اور لائیو اسٹاک کے ضلعی دفاتر بھی بلدیاتی کونسلز کو رپورٹ کریں گے۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0