بھگت سنگھ شہید کی امر زندگی #urduheadline

0


یہ8اپریل 1929ء تھی جب ’’ عوام کے بہترین مفاد میں‘‘ ایک آرڈیننس منظورکیا جانے والا تھا جسے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی عوام دشمن سمجھتے تھے۔ اس تاریخ کو بھگت سنگھ اور باتوکیشور دت نے’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اسمبلی کی راہداری میں بم پھینکے اور اس کے ساتھ ہی سیکڑوں ورق بھی اچھال دیے جن پر یہ جملہ چھپا ہوا تھا کہ ’’ بہروں کو سنانے کے لیے بہت بلند آواز ضروری ہوتی ہے۔‘‘ یہ بم دھماکے کی طرف اشارہ تھا۔ یہ بم اس قدر’’ بے ضرر ‘‘ تھا کہ وہ کسی کو ہلاک کرنا تو دورکی بات ہے زخمی بھی نہ کرسکا اور اس بات کی تصدیق برطانوی ماہرین نے بھی کی۔

بھگت سنگھ اور باتو کیشوردت نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے گرفتاری دے دی اور کہا کہ یہ بم عوام کا احتجاج تھا ، اسی لیے ہلاکت آفریں نہ تھا۔ ان دونوں پرمقدمہ چلا اور 12جون1929ء کو ان دونوںکو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ اسی دوران برطانوی حکومت کو یہ معلوم ہوگیا کہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی ڈی ایس پی سانڈرس کے قتل میں ملوث تھے۔

کئی دوسرے اس کے ساتھ گرفتار ہوئے اور بھگت سنگھ نے عدالتی کارروائی کے دوران اپنے بیانات اور اپنے 61 روزہ مرن برت سے اس مقدمے کو برطانوی حکومت کے خلاف ایک ہتھیارکے طور پر استعمال کیا اور سارے ملک میںآگ لگا دی ۔ یہی وجہ تھی کہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی راتوں رات ان کروڑوںہندوستانیوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے جو برطانوی راج سے آزادی چاہتے تھے۔ تاج برطانیہ نے 23 مارچ 1931ء کو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دے کر اپنے حسابوں کو ختم کردیا لیکن ان شہیدوں کی اصل زندگی تو اس کے بعد شروع ہوئی اور آج بھی آزادی اور انقلاب کا استعارہ ہے۔

اس کی پھانسی کتنا بڑا واقعہ تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقامی زبانوںکے علاوہ انگریزی اخباروں نے بھی اسے صفحۂ اول پر شایع کیا اور اس کی پھانسی کے تین دن بعد لاہورکے اخبار ’’دی ٹریبیون‘‘ نے 26 مارچ1931ء کو اپنے اداریے میں لکھا تھا کہ’’ ہماری یاد داشت میں ایسا کوئی فوجی مقدمہ نہیںجس نے ملک میں اتنا غم وغصہ پیدا کیا ہو ، اور نہ کسی سابق مقدمے میں موت کی سزا کم کرنے کے لیے ایسا شدید اور ملک گیر احتجاج کیا گیا ۔‘‘

بھگت سنگھ کی پھانسی کے حوالے سے کانگریس اور بہ طور خاص مہاتما گاندھی ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنے اور بنتے رہیںگے۔ اس بارے میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے۔

’’ گزشتہ تیس برسوں کے دوران ہندوستان میں وقتاً فوقتاً تشدد پسند عناصر ابھرتے رہے اور ابتدائی دنوں میں بنگال کے سوا انھیں کسی بھی جگہ اس مقبولیت کا عشر عشیر میسر نہیںہوا جو بھگت سنگھ کے حصے میں آئی۔ یہ ایک طے شدہ صداقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اسے تسلیم کرنا ہی ہوگا ایک دوسری حقیقت جو اتنی ہی سامنے کی ہے وہ یہ ہے کہ تمام ظلم وستم کے باوجود بھگت سنگھ کے بعد ہندوستانی نوجوان کے لیے دہشت پسندی میں کوئی کشش نہیں رہی۔ بھگت سنگھ اپنی دہشت پسندی کے لیے مشہور نہیں ہوا بلکہ اس لیے ہو اکہ اس وقت یوں محسوس ہوتا تھا جیسے لالہ لاجپت رائے اور ان کے وسیلے سے وہ ملک کے وقارکی حفاظت کی علامت بن گیا ہے ۔‘‘

پنڈت نہروکے یہ جملے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی پھانسی کے حوالے سے مہاتما گاندھی اور کانگریس کے دامن پر لگے ہوئے داغ کو دھونے کی کوشش ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ جب مہاتما گاندھی برطانوی وائسرائے لارڈ ارون سے ملاقاتیں کررہے تھے اور ان ہی ملاقاتوںکے نتیجے میں گاندھی ارون معاہدہ سامنے آیا تو اس وقت وہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی سزائے موت کو عمر قید سے بدلنے کے لیے لارڈ ارون پر موثر دباؤ ڈال سکتے تھے۔ مہاتما گاندھی پر اس الزام کو اس روشنی میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کی زندگی عدم تشدد کے فلسفے پر کامل یقین سے عبارت تھی اور ان کی سیاست میں بھگت سنگھ ایسے نوجوانوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی جو ہتھیار اٹھا کر ہندوستان کی آزادی چاہتے تھے۔ اسی بنیاد پر گاندھی جی اور سبھاش چندر بوس کے بھی راستے الگ ہوگئے تھے۔

شیخ ایاز کا منظوم ناٹک لاہور سینٹرل جیل سے شروع ہوتا ہے لیکن اس میںجیل جانے سے پہلے کی جھلکیاں بھی ہیں۔ لاہور کا ایک تہ خانہ ہے رات ہوگئی ہے۔ میز پر ایک لالٹین جل رہی ہے۔ دیوار پر ہندوستان کا نقشہ ہے اس کے ساتھ ہی جھانسی کی رانی، تانیتا ٹوپے اور نانا فرنویس کی فریم شدہ تصویریں بھی آویزاں ہیں۔

میز کے ارد گرد بھگت سنگھ ، ڈاکٹر گیا پرشاد اور کشوری لال بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف چندر شیکھر آزاد ،راج گرو اور سکھ دیوہیں۔ میز پر ایک طرف چھ بم رکھے ہیں اور اسی کے قریب ایک اخبار ہے جسکے صفحہ اول پر سیاہ حاشیے میں شیر پنجاب لالہ لاجپت رائے کے انتقال کی خبر چھپی ہوئی ہے۔ لالہ لاجپت رائے کو چند دنوں پہلے ایک پرامن جلوس کی قیادت کرنے کے جرم میں لاہور کی سڑکوں پر پولیس نے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا اوروہ زخموںکی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے اس میٹنگ کی نہایت اہمیت ہے۔ اسی لیے شیخ ایاز نے اپنے ناٹک میں اسے تفصیل سے دکھایا ہے۔ یہیں لاہور کے ایس پی پولیس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھگت سنگھ ہمیں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ سارا دیش جہالت کی زندگی بسر کررہا ہے۔ ان پڑھ لوگ سنیاسیوں، جوگیوں ، نام نہاد فقیروں اور درویشوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ خان بہادر اور رائے بہادر کے خطابات کے لیے سرکارکے سامنے منتیںکر رہے ہیں۔ انگریزوں اور ان کے قائم کیے ہوئے اداروں نے ہم لوگوں کی سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی قوت سلب کرلی ہے۔

اس ناٹک کا آخری منظر وہ ہے جب کھولی پر پڑے ہوئے تالے میں چابی گھومنے کی آواز آتی ہے۔ جیل کے حکام اندر آتے ہیں اوربھگت سنگھ ، راج گرو اور سکھ دیوکو پھانسی گھاٹ تک لے جاتے ہیں۔ یوں ایک جدوجہد بظاہر ختم ہوجاتی ہے لیکن اس شہادت کی روشنی دور تک جاتی ہے اور آج دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے سینوں کو منورکرتی ہے۔

بھگت سنگھ کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ ’’ وہ بانسری بجانا جانتا تھا اور دل موہ لینے والی بانسری بجاتا تھا ، وہ پنجاب کا پائیڈ پائیپر تھا۔ جس کی بانسری سے نکلنے والی آزادی کی لَے نے لوگوںکو دیوانہ وار اس کے پیچھے چلنے پر مجبورکیا۔‘‘

اس نے اپنے شاندار وجود اور سحر میں گرفتار کر لینے والی باتوں سے سارے ہندوستان پر جادوکردیا۔ وہ شیلے کے ’’پرومی تھیسس ان باؤنڈ‘‘جیسا کردار ہے۔ اس نے پرومی تھیسس کی طرح پہاڑوں کی چوٹیوں سے ‘دیوتاؤں کے ٹھکانوںسے آزادی اور انقلاب کی آگ چرائی اور ان گنت لوگوں کے دلوں کو اس آگ سے روشن کردیا۔

1937ء میں من منتھ ناتھ گپت نے اس کے بارے میں لکھا تھا:

’’بھگت سنگھ مختلف انداز کی ایک علامت تھا ، کوئی اسے پسند کرے یا نہ کرے وہ سماج کے تحفظ کے لیے ہونے والی لڑائی کی علامت بن گیا۔ اس کے پاس خواب بُننے والی تصوراتی طاقت ، اسپائی نوزا کا اضطراب اور ابتدائی عظیم انسان کی کائناتی وسعت تھی۔ ہندوستانیوں کے لیے بھگت سنگھ بہادری اور جواںمردی کی مثال تھا۔ پھانسی پاتے ہوئے وہ ایک عام سا انسان تھا۔ اس کے پاس اقتدار نہ تھا ، دولت نہ تھی، وہ ادبی شخصیت نہ تھا ، اسے روحانی ہستی ہونے کا دعویٰ نہ تھا ، لیکن اپنی ان مٹ قربانی سے اس نے انھیںبھی اپنے احترام پر مجبورکیا جو اس سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف رکھتے تھے۔

اس نے انڈین ری پبلکس ایسوسی ایشن قائم کی۔ اس کا آئین لکھا ، یہ آئین اپنے پڑھنے والوںکو یقین دلاتا ہے کہ وہ نہ خون کا پیاسا دہشت گرد تھا اور نہ اقتدارکی آرزو رکھنے والا چالاک سیاستدان۔ وہ ایک مفکر تھا اور اپنے ملک کے لیے آزادی کا نیا اعلان نامہ ، سماجی انصاف اور معاشی برابری پر مشتمل میگنا کارٹا جیسا ایک میثاق لکھ رہا تھا۔

ایک ایسانظام پیش کر رہا تھا جو طبقاتی نہ ہو اور جس میں استحصال کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ لاہورکی جیل میں اس نوخیز نوجوان نے 61 دن کا مرن برت جس شان سے گزارا اس کی مثال نہیںملتی۔ وہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے پھانسی کے تختے تک گیا۔ اس نے بعد میں آنیوالوں کو استقامت سے آزادی کی جدوجہد کرنے کی ہمت دی۔

اکیسویں صدی کی ابتدا میں ہمارے یہاں بھگت سنگھ کا نام سرگوشیوں میں لیا جاتا تھا لیکن زمانہ بدل گیا ہے اور اب اس کی برسی لاہور میں شان سے منائی گئی۔ اس کی جدوجہد آزادی کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بھگت سنگھ نے پھانسی گھاٹ میں بسنتی چولا پہننے سے 16 دن پہلے جو شعر کہے تھے وہ آپ کی نذر ہیں۔

اسے یہ فکر ہے ہر دم، نیا طرز جفا کیا ہے

ہمیں یہ شوق ہے، دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل

چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.