بھارت سازگار ماحول پیدا کرے تو پاکستان بھی اقدامات کرے گا، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر بھارت کی طرف سے سازگار ماحول پیدا کیا گیا تو پاکستان بھی اقدامات کرے گا۔

بھارت سازگار ماحول پیدا کرے تو پاکستان بھی اقدامات کرے گا، وزیر اعظم

 امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد سینیٹرز اینگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارن اور بینجمن ساس نے وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے تمام شعبوں بالخصوص اقتصادی جہت میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں ، کانگریس کے وفود کے دوروں سے باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور عوام سے عوام کے قریبی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی ، دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط شراکت داری خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے باہمی طور پر مفید اور اہم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ مقاصد کو فروغ دینے کے لیے گہرا تعلق ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نے انسانی بحران سے بچنے کے لئے افغان عوام کی مدد کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ، دہشت گردی سمیت خطے میں سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ، وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تسلسل کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی کی انتہا پسند اور خارجی پالیسیاں علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ، امریکہ کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، پاکستان ایسے اقدامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے جس سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو تقویت ملے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت کی طرف سے سازگار ماحول پیدا کیا گیا تو پاکستان بھی اقدامات کرے گا۔

سینیٹرز نے 15 اگست کے بعد افغانستان سے امریکی شہریوں اور دیگر افراد کے انخلاء میں پاکستان کے حالیہ تعاون کو سراہا ، سینیٹرز نے ایک مستحکم اور وسیع البنیاد پاکستان امریکہ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

واضح رہے کہ چاروں سینیٹرز سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے رکن جبکہ سینیٹر کنگ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0