بچپن میں فضائی آلودگی سے لڑکپن میں دماغ متاثر ہونے کا خدشہ #urduheadline

10


بچپن میں فضائی آلودگی بلوغت تک پہنچ کر نفسیاتی عارضوں اور دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے (فوٹو: فائل)

بچپن میں فضائی آلودگی بلوغت تک پہنچ کر نفسیاتی عارضوں اور دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے (فوٹو: فائل)

 لندن: کئی دہائیوں سے جاری ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بچپن میں بچوں کو فضائی اور ٹریفک آلودگی کا غیرمعمولی سامنا ہو تو لڑکپن اور جوانی میں اس سے دماغ شدید متاثر ہوسکتا ہے۔

برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق میں بطورِ خاص نائٹروجن آکسائیڈ کا ذکر کیا گیا ہے جو گاڑیوں سے دھویں کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ اگرچہ اس سے قبل فضائی آلودگی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق دریافت ہوچکا ہے لیکن نئی تحقیق اسے مزید اہم بناتی ہے۔ اس کی تفصیل جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) کی 28 اپریل کی اشاعت میں چھپی ہے۔

بچپن یا لڑکپن میں نائٹروجن میں گھرے افراد 18 برس کی عمر میں کئی طرح کے دماغی امراض اور عارضوں کے شکار ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان بچوں میں دماغی عارضوں کی ابتدائی علامات نمودار ہوں۔ ڈیوک یونیورسٹی میں طبی نفسیات کے طالبعلم آرون ریوبن نے یہ تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر کے باہر کی آلودگی آگے چل کر کئی نفسیاتی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔

فضائی آلودگی اس وقت ایک عالمگیر مسئلہ بن چکی ہے۔ گاڑیوں اور کارخانوں کی آلودگی کا ذمے دار رکازی ایندھن ہوتا ہے جو ہمیں بری طرح متاثر کررہا ہے اور اب اس کے دیرینہ منفی اثرات بھی سامنے آچکے ہیں۔

اس مطالعے میں 2000 جڑواں بچوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے 1994ء سے 1995ء میں جنم لیا تھا۔ ان تمام بچوں کا بلوغت تک جائزہ لیا گیا جو کم سے کم 18 برس کا عرصہ بنتا ہے۔ اس دوران ان کی خوراک، رہن سہن اور بالخصوص آلودہ فضا میں رہائش کو نوٹ کیا گیا۔

اس میں بالخصوص نائٹروجن آکسائیڈ اور پی ایم 2.5 ذرات کو نوٹ کیا گیا۔ یہ آلودگی ان بچوں کے گھروں کے آس پاس موجود تھی۔ اس ضمن میں بطورِ خاص دس سے اٹھارہ برس کے بچوں کو نوٹ کیا گیا۔ جبکہ فضائی ڈیٹا امپیریئل کالج، محکمہ موسمیات اور یوکے روڈ ٹریفک انوینٹری سے لیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں 22 فیصد بچے ایسی جگہ رہ رہے تھے جہاں اقوامِ متحدہ کی تجویز کردہ نائٹروجن آکسائیڈ کی مقدار 84 فیصد زائد تھی اور پی ایم 2.5 ذرات کی موجودگی بھی غیرمعمولی تھی۔ برطانیہ اور ڈیوک یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق میں 22 فیصد بچوں میں حیرت انگیز منفی رجحانات دیکھے گئے جو دماغی امراض کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

18 برس کی عمر تک یہ بچے شراب نوشی، تمباکو نوشی، توجہ میں کمی یا توجہ کے انتشار، ڈپریشن، بے چینی، پی ٹی ایس ڈی، دباؤ اور تناؤ، بسیار خوری کے عارضے اور فکری انتشار میں مبتلا تھے۔ یہ تمام عوامل سائیکو پیتھولوجی فیکٹر یا مختصراً پی فیکٹر کہلاتے ہیں۔

پی فیکٹر کو ان کے اسکور کی بنا پر ناپا جاتا ہے اور اس کی شدت بیان کی جاتی ہے۔ بعض بچوں کے نفسیاتی عارضوں کی تصدیق ان کے پڑوسیوں نے بھی کی۔

اگرچہ اس پر مزید تحقیق کی جائے گی لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہمیں تندرست مستقبل درکار ہے تو ضروری ہے کہ ہم اپنے اطراف سے فضائی آلودگی کو کم سے کم کریں۔


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.