بُک شیلف – ایکسپریس اردو #urduheadline

8


تاریخ ہند
مصنف : ای ۔ مارسڈن، مترجم: لالہ جیا رام ، خلیفہ عماد الدین
قیمت: 1300روپے، صفحات: 328
ناشر: بک ہوم ، بک سٹریٹ، 46 مزنگ روڈ ، لاہور(03014568820)


ہماری دنیا کو وجود میں آئے ہزاروں سال گزر چکے ہیں، ہزاروں سال اس لئے کہا کیونکہ انسان کی جو معلوم تاریخ ہے وہ چند ہزار سال پر ہی محیط ہے، اس سے قبل کی سائنسی کھوج جاری ہے اور آئے روز نئے نئے پہلو سامنے آتے رہتے ہیں ، اور بات لاکھوں سال تک جا پہنچی ہے۔

یہ تاریخ ہی ہے جو ہمیں ہمارے گزرے وقت کی داستانیں سناتی ہے اور انسان کو پتہ چلتا ہے کہ انسان کن حالات سے دوچار رہا اور اس نے بتدریج ترقی کی منازل کیسے طے کیں ۔ زیر نظر کتاب ہند کی کہانی بیان کرتی ہے ۔ مصنف نے اس کہانی کا سرا پتھر کے زمانے سے پکڑا ہے جب انسان ابھی جنگل اور غاروں میں رہتا تھا ۔ ہند میں اس دور کی ابتدائی قوموں دراوڑ اور کول کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر ان اقوام کا تذکرہ ہے جو دوسرے خطوں سے آکر ہندوستان میں آباد ہوئیں جن میں آرین، منگول، تورانی شامل ہیں۔

ان قوموں کے یہاں آباد ہونے سے اس خطے پر کیا اثرات ہوئے اس کا بھی تفصیلی ذکر ہے ۔ وید، رامائن اور مہابھارت کے زمانوں کے حالات بیان کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح قدیم ہندو سلطنتوں، ان کے مذاہب اور تہذیب و ثقافت اورآپس کی چپقلشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے بعد یونانیوں اور مسلمانوں کی آمد، بڑے اور نمایاں بادشاہوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے دور میں جنگوں کا احوال ، سلطنتوں کا زوال اور انگریزوں کا عروج بھی بیان کیا گیا ہے۔

انگریزوں نے ہندوستان پر قبضے کے بعد اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے جو اصلاحات کیں وہ بڑی تفصیل سے پیش کی گئی ہیں۔ الغرض اتنے کم صفحات میں اتنی طویل تاریخ کو سمو دیا گیا ہے اگر یہ کہا جائے کہ دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہے توغلط نہ ہو گا۔ نئی نسل کو ہندوستان کی تاریخ سے آگاہی کے لئے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ وہ جس خطے کے مکین ہیں وہ کن نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

ہنزہ کے رات دن
مصنف:عمران الحق چوہان، قیمت:1400روپے، صفحات: 320
ناشر: بک ہوم۔46بک سٹریٹ، مزنگ روڈ، لاہور (03014568820)


سحر طاری ہونا، اس محاورے کا مطلب ہے جادو کا شکار ہو کر خود سے بیگانہ ہو جانا، یا کسی فرد کی عقل خبط ہو جانا۔ روز مرہ میں یہ محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی چیز یا منظر دل کو اتنا اچھا لگے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جائے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ اس چیز سے نظر کیسے ہٹائے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات بھی ایسے ہی ہیں کہ جس فرد نے بھی ان علاقوں کی سیر کی ہے وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ وہیں کا ہو کر رہ جائے اور اپنی زندگی کے باقی ایام وہیں پر گزار دے ۔

ان علاقوں کی خوبصورتی اس کے دل و دماغ پر نقش ہو کر رہ جاتی ہے ۔ مصنف نے ہنزہ کی حسین وادی میں گزرے لمحات کو قلم بند کیا ہے ان کے انداز سے بے ساختگی نمایاں ہے وہ اپنے اس انداز سے قاری کو اپنے ساتھ بے تکلف کر لیتا ہے پھر تو گویا ایک فلم ہے جو قاری کی آنکھوں کے سامنے چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے یہ سب اس کے ساتھ بیت رہا ہے ۔ سفرنامے کو گیارہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب ایک نئی داستان سناتا ہے۔ دیدہ زیب تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں ۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔ ہنزہ کی وادی کی سیر کرنا ہو تو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں ۔

گائوں سے پارلیمنٹ تک
مصنف: چوہدری قربان علی چوہان
قیمت: 1000 روپے، صفحات:278، ناشر:گفتگو پبلیکیشنز، حسن سنٹر، اچھرہ ، لاہور


سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہی انسان کو جہاں بہت سے دوست ملتے ہیں وہیں دشمنوں کی بھی بھرمار ہوتی ہے جو اس سفر میں ہر موقع پر آپ کے راستے میں کانٹے بچھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاص طور پر پاکستان کی سیاست میں یہ وطیرہ عام ہے۔ حاسدین کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے جو بہانے بہانے سے آپ کو گرانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے دوست بھی ہوتے ہیں جو بظاہر دوست مگر اصل میں اپنے مفاد کے تحت آپ سے چمٹے ہوتے ہیں اور آپ سے ہر وقت فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں۔

زیر نظر کتاب میں جہاں سیاست کے میدان میں پیش آنے والی کارفرمائیوں کی کہانی بیان کی گئی ہے وہیں تقسیم برصغیر کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات کی خونچکاں داستان بھی رقم کی گئی ہے۔ معروف قانون دان سید ظفر علی شاہ کہتے ہیں ’’ گائوں سے پارلیمنٹ تک‘‘ کی تحریر یقیناً جذبات ، حوادث، زندگی اور عملیت سے بھرپور ہے ۔

یہ بہت متاثر کن سرگزشت ہے اور اس کے مطالعہ سے کوئی بھی شخص پڑھنے کے بعد اثر پذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ‘‘۔ اسی طرح معروف صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین کہتے ہیں ’’ یہ نہ صرف ایک قد آور شخصیت اور قومی رہنما کی سوانح عمری ہے بلکہ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی ہے ۔ اس کتاب میں خارزار سیاست کے پیشتر رازوں اور استحصالی طبقات کے گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو وطن عزیز کو عوامی فلاحی ریاست بنانے کی کو ششوں میں حائل ہے ۔ ‘‘ مجلد کتاب کے سرورق کو مصنف کے عکس سے مزین کیا گیا ہے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

کنکریوں کی بارش( ناول)
مصنف : رفاقت جاوید، قیمت: 500 روپے
ناشر: القریش پبلی کیشنز‘ ، اردو بازار لاہور ، رابطہ نمبر: 042-37652546


ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ہم نے حضرت لوط علیہ السلام کو ( اردن اور بیت المقدس کے درمیانی علاقہ سدوم میں ) بھیجا۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا، کیا تم بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہاں میں کسی نے نہ کی۔ بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرجانے والے ہو۔‘‘( الاعراف)۔

زیرنظر ناول اسی منفرد موضوع پر لکھا گیا ہے، جس کا ذکر مذکورہ بالا آیات ربانی میں ہے۔ یہ ناول ایک ایسی کہانی ہے جو ہمارے معاشرے میں پرورش پانے والی ہزاروں، شاید لاکھوں کہانیوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ گویا ہمارے معاشرے میں تیزی سے وہ ہلاکت خیز مرض پھیل رہا ہے جس نے قوم لوط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اور پھر اس کے لوگوں پر پتھروںکی بارش ہوئی اوروہ ذلت اور بے بسی کی موت مرے۔ہمارے معاشرے میں کمسن اور جوان بچوں کا جنسی رجحان اور نشہ آور منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

دوسروں کی دیکھا دیکھی، آج کی نئی نسل ڈرگز میں ملوث ہونے کو فن کا نام دیتی ہے اور ہم جنس سے جنسی تعلقات رکھنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتی۔ دراصل آج کے ہم جنس پرست لوگ قوم لوط کے انجام سے بے خبر ہیں۔ اس لئے مصنف نے ضرورت محسوس کی کہ اس کہانی کے ذریعے نئی نسل کو خبردار کریں اور انھیں بڑی تباہی وارد ہونے سے پہلے پیچھے ہٹ جانے پر قائل کریں۔ مصنف نے انتساب ان معصوم بچوں کے نام کیا ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ ایسی کہانیوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھانے اور پھیلانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کوئی ایک معصوم بچہ بھی بن کھلے نہ مرجھائے اور اس قوم کا شاندار مستقبل بنے۔

مائنڈ سائنس
مصنف: ڈاکٹر اختر احمد، قیمت:400 روپے
ناشر: مائنڈ ماسٹرز، لاہور، رابطہ 03335242146


آپ جو کچھ بھی سوچیں، وہ آپ کو حاصل ہوجائے، شاید آپ اس بات پر بھرپور خواہش کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے، اسے ایک خوبصورت خیال سمجھیں گے ، جو بس خیال ہی رہتا ہے، حقیقت کا روپ نہیں دھارتا۔ تاہم مائنڈ سائنس کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایسا ہوسکتاہے۔

اسی مائنڈسائنس کے نتیجے میں ایک اخبار بیچنے والا کروڑپتی بن گیا، ایک خاتون کی دیرینہ دلی خواہش صرف تین دن میں پوری ہوئی، ایک بے روزگارخاتون کو چندگھنٹوں میں نوکری مل گئی، ایک عام شخص سو سے زائد انٹرنیشنل ہوٹلز کا مالک بن گیا۔

ایک محنت کش نے صوبہ بھر میں ٹاپ کیا، ایک بزنس مین دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، ایک غریب لڑکی کی بچپن کی خواہش حیران کن طور پر پوری ہوئی، ایک غریب اور لاچار بوڑھی خاتون کی مشکلات ختم ہوگئیں، ایک نوجوان کی محبوبہ سے شادی ہوگئی، حالانکہ اس سے پہلے راستے میں ہزار رکاوٹیں کھڑی تھیں۔ ان سب نیکیسے سوچا اور پھر کیسے ہوا؟ یہ سب قصے زیرنظر کتاب میں موجود ہیں۔ یہ سب ناممکنات مائنڈسائنس کے سبب ممکنات میں بدل گئیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ مائنڈ سائنس ہے کیا ؟ جو محیرالعقول نتائج دیتی ہے۔ زیرنظرکتاب ہی اس کا نہایت مفصل جواب ہے۔ مصنف ڈاکٹراختر احمد ممتاز مائنڈ سائنس ایکسپرٹ اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مائنڈ سائنس حیران کن، طلسماتی اور معجزاتی علم ہے جو آپ کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’’اگر ہماری نئی نسل مائنڈ سائنس کا علم حاصل کرلے تو ہمارا ملک دو سے تین سال کے اندر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوسکتا ہے۔ اس علم کے ذریعے ہمارے طالب علم خواہ وہ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں ، دنیا میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ‘‘

تاہم سب سے پہلے مائنڈ سائنس کے بارے میں جاننا لازم ہے، اس کے لئے زیرنظرکتاب نہایت مفید ثابت ہوگی، کیونکہ یہ انتہائی سادہ اور عام فہم انداز میں لکھی گئی ہے۔ امید ہے کہ نئی نسل اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی اور اپنے خوابوں کو تعبیر بخشے گی۔

چند ناقابل فراموش شخصیات
مصنف : منشی عبدالرحمٰن خان، قیمت : 800 روپے
ناشر: بک کارنر ،جہلم، واٹس ایپ 03215440882


منشی عبدالرحمٰن ( عبدالرحمن خان) 1931ء میں علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک آزادی کے قافلہ میں شامل ہوئے۔ جنوری1954ء میں ’ ملتان اکادمی‘ نام کا ادارہ قائم ہوا۔ منشی صاحب نے اس ادارہ کے بطور فعال رکن اور 1970ء تک معتمد کے فرائض انجام دیے۔1956ء میں آپ نے لگ بھگ چارہزار کتب پر مشتمل ایک کتب خانہ قائم کیا۔ اردو زبان کی حمایت میں ادبی تنظیموں ، کانفرنسوں اور تقریبات میں پیش پیش رہے اور ملکی ترقی ، وطن کی سالمیت اور اردو زبان کی ترویج کے لئے بھرپور خدمات انجام دیں۔ ایک سو سے زائد کتابوں کی تصنیف و تالیف کی۔ آپ کی بیشتر کتب علی گڑھ یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کی گئیں، حتیٰ کہ یورپی درسگاہوں میں استفادہ کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں میں ان کی کتب کے تراجم بھی ہوئے۔

زیرنظر کتاب میں منشی عبدالرحمن نے قائد اعظم محمد علی جناح ، مسٹر جسٹس ایس اے رحمٰن، علامہ شبیراحمد عثمانی ، مولانا محمد شفیع دیوبندی ، مولانا ظفرعلی خان، سید عطااللہ شاہ بخاری ، مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ، سردار عبدالرب نشتر ، جگر مراد آبادی، مختارمسعود ، ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ ، خان محمد اسد خان، مولانا عبدالرشید نسیم ، حمید نظامی ، خواجہ حسن نظامی، پیرزادہ کشفی الاسدی اور چوہدری عبدالرحمن جیسی ناقابل فراموش شخصیات کے خاکے پیش کیے ہیں جو ان سے ذاتی تعلقات ، مشاہدات اور تاثرات کی روشنی میں لکھے گئے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جن کی درخشاں اور تابناک عملی زندگی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے اس کا ہر گھر کی لائبریری میں ہونا ازحد ضروری ہے۔

رعنائی تحریر
مصنف : تفاخر محمود گوندل، قیمت : درج نہیں
ناشر: قلم فائونڈیشن ، بنک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ، رابطہ : 03000515101


زیرنظرکتاب مصنف کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو مختلف روزناموںمیں شائع ہوتے رہے۔انھیں مرتب کیا ہے پروفیسر ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے جو وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں استاد ہیں۔ تفاخر محمود محض کالم نویسی ہی نہیں کرتے بلکہ وہ ایک سیرت نگار اور ممتاز ادیب بھی ہیں۔ ان کی مختلف کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ یہ ان کالم نگاروں میں سے نہیں ہیں جن کے کالموں میں لکھنے والے کے محض جذبات ہوتے ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔ دل درد مند رکھنے والے تفاخر محمود گوندل کی نثر خوبصورت اور پرشکوہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی مصنف کے اسلوب تحریر کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’انھوں نے اپنے صحافتی کالموں اور اخباری مضامین میں اس نثرنگاری اور طرز انشا کا احیا کیا ہے جو مولانا ظفرعلی خان سمیت ابوالکلام آزاد ، چراغ حسن حسرت ، شورش کاشمیری، تمنا عمادی، مولانا حسرت موہانی اور اس قبیل کے دیگر مشاہیر ورثے کے طور پر چھوڑ گئے تھے… مولانا ظفرعلی خان آج موجود ہوتے تو اس امر پر خوشی کا اظہار کرتے کہ عطااللہ شاہ کا زور خطابت اور تقریر کا خوبصورت لحن اگلی نسلوں کو منتقل ہوگیا ہے۔‘‘مصنف کے اسلوب کا اندازہ ذیل کی چند سطور سے بخوبی ہوتا ہے جو ایک مضمون بعنوان ’’کرتی ہے کیا تقاضا محبت حضورﷺ کی‘‘ کا حصہ ہیں:

’’ ایک مسلمان کو اگر بالیدگیء ذہن، دل کو دولت طمانیت ، آنکھوں کو بصارت ، خون کو حرارت، جسم کو توانائی، صلاحیتوں کو ارتقا ، جذبوں کو ارتفاع ، لبوں کو ثروتِ مسکراہٹ ، ہاتھوں کو طاقتِ لمس اور خیالات کو بلندی نصیب ہوسکتی ہے تو یہی جذبے عشق رسولﷺ ہے۔‘‘اس کتاب میں شامل تمام کالم اور مضامین اسلام اور پاکستان کی محبت میں ڈوب کر لکھے گئے ہیں۔امید ہے کہ یہ کتاب اسلامیان پاکستان بالخصوص اردو ادب کے شائقین کے لئے گراں قدر اثاثہ ثابت ہوگی۔

عبدالرحمان واصف کی کاوش’’ مختصر‘‘


ادبی حلقوں میں عبدالرحمان واصف ایک کہنہ مشق شاعرکی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے اہلِ نقد و نظر سے داد و تحسین وصول کر چکے ہیں اور اب ’’مختصر‘‘ کے نام سے ان کا تازہ شعری مجموعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ اگرچہ شعرو سخن کی دنیا میںہیئت اور صنف میں کوئی تجربہ کرنا نئی بات نہیں، لیکن بہت کم شعرا ایسے ہیں جو قارئین اور ناقدین کو متاثر کر سکے یا ان کا تجربہ شعری جمالیات اور دیگر تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے شاعرکے اسلوب کے سبب مقبول ہوا ہو ۔ عبدالرحمان واصف نے نہ اس کتاب کے ذریعے کوئی نیا تجربہ کیا ہے اور نہ ہی کسی غیر روایتی یا غیر مقبول صنفِ سخن میں اپنے خیالات اور جذبات کو سمویا ہے، لیکن اس کی انفرادیت مختصر ترین اوزان و بحور ہیں جن میں 70 (ستّر) غزلیات کو شاعر نے اپنے دل نشیں اسلوب میں قارئین تک پہنچایا ہے۔ اسے ہم مختصر ترین غزلیات کا مجموعہ کہہ سکتے ہیں۔ غزل جیسی صنف میں مختصر گوئی کی یہ مثال اردو شاعری میںاس سے پہلے نہیں ملتی۔

ادبی گروہ بندیوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے واصف نے تخلیقی سطح پر نئے اور بامقصد تجربات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے اور یہ امر بجا طور پہ لائقِ تحسین ہے۔ پیشِ نظر مجموعے میں شامل تمام غزلیں مختصر ترین اوزان اور بحور پر مشتمل ہیںجو شاعر کے تخلیقی وفور اور اس کے کہنہ مشق ہونے کا ثبوت ہیں۔ ندرتِ خیال اور معنٰی آفرینی سے آراستہ اس کلام میں وہ تمام شعری اوصاف اور خصوصیات موجود ہیں جو کسی بھی شعر کو معتبر بناتے ہیں ۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔

تو گیا نگاہوں سے آنکھ بجھ گئی میری
اب تو اک ہیولا ہوں ایک شکل تھی میری
٭٭٭
اسے میں نے صدا دی وہ اب پتھر بنے گا
اس مجموعے میں کہیں بھی مختصر گوئی کا طلسم نہ تو مدھم پڑا اور نہ ہی ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے بلکہ اکثر اشعار پڑھ کر محسوس ہوتا ہے گویا آنکھ کے تل میں آسمان سمو دیا گیا ہے۔
تم کیوں گئے یہ کیا ہوا
دل ٹھیکرا ٹوٹا ہوا
یہ شعر دیکھئے
مری طرف بھی قدم بڑھاؤ مجھے بھی رستہ اجالنا ہے
عبدالرحمان واصف نے اردو شاعری کو مختصر ترین اوزان و بحور پر مشتمل غزلیات کا مجموعہ دے کر مختصر گوئی کی ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ (تبصرہ نگار: عارف عزیز)


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.