بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصول کئے جانیکا انکشاف #urduheadline

6


فروری 2021 میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سرچارج کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دی تھی

فروری 2021 میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سرچارج کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دی تھی

 اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)کی جانب سے بجلی کے بلوں پرعائد نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کی منظوری کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصول کئے جانیکا انکشاف ہوا ہے.

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے نیلم جہلم منصوبے کے فعال ہونے تک بجلی کے بلوں پر دس پیسہ فی یونٹ سرچارج لگایا گیا تھا۔ اس منصوبے کو دسمبر 2018 میں آپریشنل ہونے کے بعد جہلم پاور ہاوس واپڈا کے سپرد کردیا گیا تھا، تاہم بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے یہ سرچارج وصول کر رہی تھی۔

فروری 2021 میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سرچارج کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دی تھی جس کی توثیق کابینہ نے بھی کردی تھی۔ کابینہ نے اس سرچارج کو فوری ختم کرنے کی منظوری کے ساتھ نیلم جہلم سرجارچ وصولی کا آڈٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

اس فیصلے کے تحت صارفین سے فیصلے کے بعد وصول کی گئی سرچارج کی رقم بھی واپس کی جانی تھی۔ لیکن صارفین کو چند روزقبل موصول ہونیوالے بجلی کے بلوں میں بھی نیلم جہلم سرچارج شامل کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزارت توانائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کی منظوری تک کچھ پاور کمپنیوں کے بل شائع ہوچکے تھے، جس کی وجہ سے بہت سے صارفین کو نیلم جہلم سرچارج کے ساتھ بل موصول ہوئے ہیں، جن کی اگلے ماہ ایڈجسمنٹ کر دی جائے گی۔


#urduheadline



.

Leave A Reply

Your email address will not be published.