آسمان اچانک ’گلابی‘ ہونے کی وجہ سامنے آگئی

براعظم انٹارٹیکا میں گزشتہ دنوں آسمان کا رنگ اچانک گلابی ہوگیا جسے دیکھ کر وہاں موجود لوگ دنگ رہ گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق براعظم انٹارٹیکا میں آسمان کا رنگ گلابی ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ 2022 کے اوائل میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے خارج ہونے والے […]

آسمان اچانک ’گلابی‘ ہونے کی وجہ سامنے آگئی

براعظم انٹارٹیکا میں گزشتہ دنوں آسمان کا رنگ اچانک گلابی ہوگیا جسے دیکھ کر وہاں موجود لوگ دنگ رہ گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق براعظم انٹارٹیکا میں آسمان کا رنگ گلابی ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ 2022 کے اوائل میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے خارج ہونے والے ایروسول یا ہوا میں پھیلنے والے ذرات تھے۔

ٹونگا کے قریب یہ آتش فشاں 15 جنوری کو پھٹا تھا جس کے بعد راکھ کی بہت زیادہ مقدار کو ہوا میں پھیلتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا۔

آتش فشاں پھٹنے کی طاقت 10 میگا ٹن تھی جس سے ٹونگا کو تباہ کن سونامی کا سامنا ہوا۔

نیوزی لینڈ کے انٹار کٹیکا اسکاٹ بیس پر کام کرنے والے اسٹیورٹ شا نے انسٹاگرام پر انٹار کٹیکا کے آسمان کی تصاویر پوسٹ کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ‘یقین کریں یا نہ کریں مگر میں نے ان تصاویر کو ایڈٹ نہیں کیا لیکن ہم نے آسمان کو ایسا دیکھا جو انتہائی زبردست نظارہ تھا’۔

Tongan volcano are shown on this map.

ٹونگا میں پھٹنے والے آتش فشاں کے ذرات طویل فاصلہ طے کرکے اب انٹار کٹیکا پہنچے جس سے آسمان کی رنگت تبدیل ہوئی ورنہ ان دنوں برفانی براعظم میں ہر وقت تاریکی کا راج ہوتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف واٹر اینڈ ایٹموسفیرک ریسرچ کی جانب سے ایک بیان میں اس کی وجہ بتائی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد ہوا میں موجود ذرات دنیا کے گرد مہینوں تک گردش کرسکتے ہیں، جن سے سورج کی روشنی کی رنگت تبدیل محسوس ہوتی ہے اور آسمان میں گلابی، نیلے، جامنی یا دیگر رنگ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0